وہ رات — کرسمس کی وہ حسین رات ۔۔۔ ایسی رات تھی جیسے آسمان نے اپنی تمام روشنیوں کو چپکے سے زمین پر اتار دیا ہو۔ آدھی رات گزر چکی تھی گھڑی پر بارہ بجنے کو تھے۔ رات اپنی سانسیں تھامے بیٹھی تھی اور کائنات کا ذرّہ ذرّہ ایک نادیدہ وجد میں رقصاں تھا۔ گلی کے اختتام پر کبھی کبھی کوئی کیرل گاتا ہوا گذر جاتا، اور اس کی آواز یخ بستہ ہوا کے ہمراہ میرے دل کے کسی بھولے ہوئے دریچے میں جا کر ٹھہر جاتی۔
میں اپنی ایزی چیئر پر نیم دراز اپنے بچپن کی یادوں میں گم بیٹھا تھا۔ کھڑکی کے شیشے پر اوس کی جھلی چمک رہی تھی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا کے تھپیڑوں کے آہنگ پر دھیمے دھیمے ایک پرانی نظم کے سر ابھرنے لگے۔”برف کو اوڑھ کر پیڑ سجدے میں ہیں… پھول ہیں رقص میں لوگ گرجے میں ہیں۔۔۔”
لگتا تھا وقت نے اپنی رفتار چھوڑ دی ہے اور میں کسی پُرانے خواب کی دہلیز پر بیٹھا ہوا یادوں کے جزیرے میں کھوئے اپنے پرانے کرسمس ڈھونڈ رہا ہوں۔
کرسمس اور ماہِ دسمبر کا تعلق بھی کیا عجیب ہے؛ دونوں ایک ہی پیراہن کے دو رنگ معلوم ہوتے ہیں۔دسمبر—جو بڑے بڑوں کے دل کو توڑ پھوڑ کے زخمی گھائل کر کے رکھ دیتا ہے۔—پلکوں پر برف کی کرچیاں، اور آہ، یہ چشمِ نم… دسمبر کے موسم کی دین ہے مگر کرسمس…کرسمس اس شبِ سیاہ میں روشنی اور امید کی کرن ہے۔ یہ لازم بھی نہیں کہ دسمبر کا زخم ہمیشہ ظاہر ہو۔ چاہے ماحول نے بیراگی چادر اوڑھ رکھی ہو، کرسمس کا نور پھر بھی دل کے کسی نہاں گوشے میں شمع بن کر جل اٹھتا ہے۔ یہ موسم صرف عبادت یا یادِ الٰہی کا موسم نہیں، بلکہ رنگوں کی چہکار کا موسم بھی ہے۔
بچوں کی شوخی، بالیوں کی چہک، نوجوانوں کے اجلے لباس—گویا ہر سمت پھولوں کے کھلنے کی آہٹ ہے۔
میں نے اپنی زندگی میں بے شمار راتیں بیتائی ہیں، مگر کرسمس کی رات میں جس محبت کی لطافت ہے، اس کا دائرۂ نور کبھی مکمل نہیں ہوتا۔ اس کی معصومیت کی اتھاہ کبھی ختم نہیں ہوتی۔ یہ رات ہمارے عہدِ محبت، ہماری ہزار ہا سالہ تہذیب کا سب سے منور ستون ہے۔ ایسی رات جس میں دھرتی کے سینے پر خدا باپ کا پیار پھول بن کر کھلتا ہے، اور ان پھولوں کے سنہرے خوشے ہوا میں مسکرا مسکرا کر لہراتے ہیں—
رفتہ رفتہ میرا دل بچپن کے اُن کرسمسوں کی طرف کھنچنے لگتاھے جنہیں وقت کی برف نے ڈھانپ رکھا ہے۔ چرنی کے پاس سجے ننھے کھلونے، یسوع کا جھولا، گرجے کے باہر جلتی موم بتیاں، اور وہ گیت جنہیں سرد ہوا کی تال پر ہم دھیرے دھیرے گنگناتے تھے۔ یوں محسوس ہوا جیسے یادوں کی نیند سے کوئی مجھے نام لے کر پکار رہا ہو۔ باہر چند کیرل سنگر بچوں کی معصوم آوازیں پھر ابھریں۔ “نہ جھولا نہ کھٹولہ اپنا سر رکھنے کو…” اور میں نے کھڑکی کے کواڑ بند کر دیے۔ کمرے میں ایک ایسا سکوت اُترا جو دل کی دھڑکن تک کو سنوا دیتا ہے۔
شاید اسی اثنا میں پتہ نہیں کتنی دیر گزری تھی کہ اچانک دور سے بچوں کی ہنسی اور چرچ کی ننھی گھنٹیوں کی صدا نے مجھے خواب کے نیم تاریک بیچ راستے سے اٹھا لیا۔ دیکھا تو کمرہ وہی اجڑا سا، وہی سرد ہوا ۔۔ ابھی تک بچے کیرل سے نہیں لوٹے تھے۔۔ کس قدر یہ بچے کرسمس کو زندہ رکھے ہوئے ہیں شاید ہم جیسے بڑے نہیں۔ میرے سینے کے اندر جیسے کسی نے روشنی کا ایک نرم سا چراغ رکھ دیا ہو۔ایک لمحے کو لگا جیسے میرے بچپن کے سارے کرسمس اپنی برف جھاڑ کر دوبارہ چہکتے ہوئے لوٹ آئے ہوں۔جیسے یادوں کے بے آباد جزیرے پر اچانک شام کی نارنجی روشنی اُتر آئی ہو۔اِسی روشنی کے تناظر میں مجھےوہ اشعار یاد آنے لگے؛
بشارت جب ہوئی عرشِ بریں پہ
مجسم ہو گئی اُلفت زمیں پہ
نظارے سب مُنور ہو گئے ہیں
کہ ایسا نُور برسا ہے کہیں پہ
مَیں نے آنکھیں موندے موندے مسکراتے ہوئے خود سے کہا؛
بڑے لوگ چاہے فرسودگی کی دُھول تلے دب جائیں۔۔مگر کرسمس کبھی بوڑھا نہیں ہوتا۔یہ بچوں کی ہنسی میں زندہ رہتا ہے، ان کی معصوم دُعاؤں میں، ان کی چھوٹے چھوٹے ہاتھوں میں تھامی گئی موم بتیوں میں۔ مَیں اس رات گھر میں شاید تنہا تھا—مگر اچانک سمجھ آیا کہ؛
کرسمس میں کوئی بھی، کبھی بھی، مکمل طور پر اکیلا نہیں ہوتا۔
مَیں نے دھیرے سے مسکرا کر آنکھیں بند کر لیں۔ نجانے کب نیند نے میری پلکوں کو چوم لیا۔
*******



