ماریا شہباز کیس: چرچ، سیاسی و قانونی قیادت کا مشترکہ اجلاس، انصاف اور تحفظ پر تشویش

لاہور(تادیب) ماریا شہباز کیس میں وفاقی آئینی عدالت کے حالیہ فیصلے پر چرچ آف پاکستان سمیت ملک کی مذہبی، سیاسی اور قانونی قیادت نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس سلسلے میں 6 اپریل 2026 لاہور کے علاقے وارث روڈ پر واقع ڈیومٹی میں ایک اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت آرچ بشپ ڈاکٹر آزاد مارشل (موڈریٹر/صدر بشپ چرچ آف پاکستان) نے کی۔

اجلاس میں چرچ کے سینئر رہنماؤں، سیاست دانوں، قانونی ماہرین، سول سوسائٹی کے نمائندگان، پادریوں اور میڈیا پرسنز نے شرکت کی۔ شرکاء نے عدالتی فیصلے کے ممکنہ اثرات پر تفصیلی غور کیا اور ایک مشترکہ و متفقہ لائحہ عمل اختیار کرنے پر اتفاق کیا۔ اجلاس کی نمایاں خصوصیت مختلف مسیحی مسالک—بشمول رومن کیتھولک، پریسبیٹیرین، چرچ آف پاکستان اور پینتی کاسٹل کلیسیائیں کے درمیان غیر معمولی اتحاد تھا۔

معزز شرکاء میں تقدس مآب ڈاکٹر مائیکل نذیر علی، فادر جیمز چنن، فادر نکاش، فادر بشارت سراج، فادر شہزاد کھوکھر، ریورنڈ لیاقت ایم قیصر، ریورنڈ مجید ایبل، سیموئیل پایارا (چیئرمین آئی ایم آر ایف)، عمانوئیل پرویز، ریورنڈ مارکس فدا، ریورنڈ وسیم اللہ کھوکھر، ریورنڈ سیموئیل برکت، ریورنڈ شہزاد گل، ریورنڈ امجد سلامت، سینیٹر کامران مائیکل، ایم پی اے اعجاز آگسٹین اور سابق ایم پی اے شکیل مارکس کھوکھر سمیت دیگر نمایاں شخصیات شامل تھیں۔ سپریم کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ بار سے وابستہ سینئر وکلاء نے بھی قانونی پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔

اجلاس میں اس امر پر شدید تشویش ظاہر کی گئی کہ یہ کیس ایک کم عمر مسیحی لڑکی کے مبینہ اغوا، جبری تبدیلیٔ مذہب اور شادی سے متعلق ہے، جو خصوصاً مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والی کم عمر بچیوں کے تحفظ کے حوالے سے نہایت حساس مسئلہ بن چکا ہے۔ شرکاء نے عمر کے تعین، قانونی تحفظات کے اطلاق اور متاثرہ لڑکی کی آزادانہ رضامندی کے حوالے سے سنجیدہ سوالات اٹھائے۔

چرچ آف پاکستان کے بیان میں کہا گیا کہ “ایمان کبھی بھی جبر کے تحت قبول نہیں کیا جا سکتا اور شادی ہمیشہ آزاد اور باخبر رضامندی کے ساتھ ہونی چاہیے۔ کم عمر افراد کا تحفظ آئینی تقاضا ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔”

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ قانونی ماہرین عدالتی فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست دائر کریں گے اور تمام دستیاب آئینی و قانونی راستے اختیار کیے جائیں گے۔ چرچ کی قیادت متعلقہ سرکاری اداروں سے باضابطہ رابطہ کرے گی تاکہ مسیحی برادری کے تحفظات مؤثر انداز میں پیش کیے جا سکیں۔ اس کے علاوہ اس معاملے کو قومی و بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کا بھی عزم ظاہر کیا گیا۔

چرچ آف پاکستان نے عدلیہ سے مطالبہ کیا کہ کم عمر افراد سے متعلق مقدمات میں سخت حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جائیں، جن میں عمر اور رضامندی کی غیر جانبدارانہ تصدیق شامل ہو۔ مقننہ سے اپیل کی گئی کہ جبری تبدیلیٔ مذہب اور کم عمری کی شادیوں کے خلاف مؤثر قانون سازی کی جائے، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں پر زور دیا گیا کہ ایسے مقدمات میں فوری، شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کو یقینی بنایا جائے۔

بیان کے اختتام پر چرچ آف پاکستان نے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ معاشرے کے کمزور طبقات کے حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی آواز بلند کرتا رہے گا، متاثرہ خاندانوں کی ہر ممکن معاونت جاری رکھے گا اور بین المذاہب ہم آہنگی، انسانی وقار، مساوات اور قانون کی حکمرانی کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ ساتھ ہی اس بات پر زور دیا گیا کہ اقلیتوں کے حقوق اور بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہی حقیقی انصاف اور آئین کی بالادستی کی ضمانت ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Discover more from Tadeeb

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading