دوراہا ۔۔۔! : روبنسن سیموئیل گل

وہ مسافر اُس گھنے جنگل میں اندر ہی اندر بڑھتا چلا جارہا تھا۔مگر اُسے اِس بات کا بالکل بھی ڈر نہ تھا کہ وہ بھٹک جائے گا۔ وہ تو دُنیا داری سے پہلو تہی کرنا چاہتا تھا۔ وہ اُس ایک پگڈنڈی پر چلتا چلا جارہا تھا۔ اُس کی چال ڈھال سے معلوم ہوتا تھا کہ اُس کے اِس سفر کا کوئی خاص مقصد نہیں۔ شاید وہ دُنیا، دُنیا داری اور دُنیا کی یاری سے جان چھڑا رہا تھا۔ گھنے درختوں سے ڈھکی پگڈنڈی اُسے ایک دوراہے پر لے آئی۔ وہ عجیب کشمکش سے دوچار تھا کہ دائیں مڑے یا بائیں۔ اُسی لمحے ایک باریش بزرگ سامنے سے آتے دکھائی دیے، “بابا جی، کیا آپ مجھے بتا سکتے ہیں کہ میں دائیں مڑوں یا بائیں؟”
بزرگ قدرے توقف کے بعد بولے، “بیٹا، تجھے جانا کہاں ہے؟”
“یہ تو مجھے معلوم نہیں، میں تو بس تلاش کے سفر پر گامزن ہوں۔”
“اگر تجھے اپنے سفر کے مقصد، سمت اور منزل کا علم نہیں تو پھر اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ تُو دائیں مڑ یا بائیں، جہاں جی چاہے مڑجا۔”
یہ کہتے ہوئے بابا جی لاٹھی ٹیکتے ہوئے آگے بڑھ گئے جب کہ مسافر سوچوں میں غرق اُس دوراہے پر کھڑا فیصلہ کرنے سے قاصر تھا کہ کس جانب مڑے۔ بہت دفعہ زندگی کے سفر میں ایسے ہی دوراہے آتے بلکہ چوراہے آتے ہیں، انسان کشمکش کا شکار ہوکر کوئی فیصلہ اِس لیے بھی کرنے سے قاصر رہتا ہے کہ اُسے اپنے مقصد، سمت، منزل حتی کہ اقدار کا بھی علم نہیں ہوتا۔
بے شک “زندگی اِک سفر ہے سہانہ” اور اِس سفر میں جنگل، بیابان، صحرا، پہاڑ، وادیاں، پگڈنڈیاں اور شاہراہیں آتی رہتی ہیں۔ بس دوراہے اور چوراہے ہمیں پریشان کر ڈالتے ہیں۔ ہم نہیں جانتے کہ یہاں کل کیا ہو؟ لیکن اگر اُسے جان لیں جس کے ہاتھ میں ہمارا کل ہے تو پھر ہم دوراہوں پر ہرگز بے کل و بے دل نہ ہوں گے۔ کیوں کہ حقیقتا” کوئی شے نہیں بلکہ اُس شے کا بنانے والا ہی اُس شے کے بنانے کا اصل مقصد بتا سکتا ہے۔ اپنے بنانے والے سے جڑ جائیں کیوں کہ وہی ہمارے سب کام بنانے والا ہے۔

نوٹ: “تادیب ” کے کسی بھی آرٹیکل، کالم یا تبصرے میں لکھاری کی ذاتی رائے ہوتی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا قطعاً ضروری نہیں۔ “تادیب” ادیبوں، مبصرین اور محققین کی تحریروں کو شائع کرنے کا فریضہ انجام دے رہا ہے۔

*******

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Discover more from Tadeeb

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading