دین میں جبر نہیں : یوحناجان

بچپن سے اس جملہ کو تحریری و تقریری انداز میں بڑی خوش اسلوبی سے سُنا اور دیکھا ہے ۔ اس جملہ نے کئی دفعہ ماضی کے پہلووں میں جا کر عظیم اور صبر پیما لوگوں کی زندگی میں دخل اندازی دکھائی جو تاریخ کا حصہ بن کر اس خاک میں جاملے ہیں۔ لاحاصل کا پہاڑ لیے منوں من مٹی میں جا کر لاانتہا بن گئے۔
پاکستان مذہب کے نام پر لیا گیا جو تاریخی ، مذہبی ، سیاسی اور دینی دابستان بنا۔ جس کو حاصل کرنے کے لیے تبدیلی اور جلال کی مُہریں تک بنوائی گئیں۔ جہاں سب لوگ اپنے عقد کے لحاظ سے ایام زندگی گزار سکیں۔ تذکرہ ماضی ہو یا حال کا مرکز مذہب ہی رہا۔ اب میں اس کو احساس کمتری کہوں یا لاعلمی جو جبر کے رنگ میں بے رنگ کا لبادہ لیے 295سی کا نوالہ چباتے ہوئے ملا ہے۔
جب مذہب میں کسی قسم کی تبدیلی ، جبر اور غیر اخلاقی رائے کا جواز نہیں تو پھر یہ انتہا پسندی کا دعویٰ کس گلی سے نکل کر گاوٴں کے گاوٴں اور بستی کی بستیاں جلا دینے کا نعرہ لگاتا ہے۔
یہ بات تو تسلیم شدہ ہے کہ ہر بندہ کسی نہ کسی عقد و مذہب سے منسلک ہے کوئی بھی کسی عقد و ایمان کسی دوسرے پر بہتان لگانے اور سازش و مداخلت کرنے کا حکم نہیں دیتا۔ مذہب آزادی ، رواداری ، اعتماد اور ہم آہنگی کا نام ہے۔ جو اس کے متضاد کردار کا حامل ہے تو پھر براہ راست وہ اپنے مذہب و عقد سے بغاوت کا حامل ہے۔
دوسری بات اگر مذہب پر اتنی توجہ دینے کے باوجود خطرہ لاحق ہو تو سمجھ جاو پھر خطرہ گھر سے ہے کسی ہمسائے کی طرف سے نہیں۔ پوری دنیا اس بات کا اظہار و اقرار کرتی ہے کہ مذہب ذاتی اصلاح اور چلنے کا نام ہے جو ذاتی و نجی زندگی پر اثر انداز ہو کر ہدایت کا ذریعہ ہے۔ یہ اصلاح ، قوت حیات ، سلیقہ زندگی اور ذاتی روحانی تسکین کا معیار بلند کرتا ہے۔ تاریخ بھی گواہ ہے کہ مذہب سلامتی و راہنمائی کا نام ہے۔ یہ ملک اسی معانی کی کڑی تھی پر اب نہیں۔ وطن کی آزادی میں اس وقت سب سے بڑی رکاوٹ اسی کی آڑ میں آزادی کے نام پر بربادی ، مذہب کی بجائے غضب ، عقیدہ کی جگہ بدرقہ ، دھرم کی بجائے ورم کا ولولہ جابجا کارفرما ہے۔ تو پھر کیسے مان لوں ، ضمیر کو کس طرح سمجھاوں کہ مذہب میں آزادی ہے کوئی جبر نہیں۔ کہنے اور کرنے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
اس جبر کی انتہاء کہاں جا پہنچی کہ عبادت گاہیں تک جلا دیں، عقد کی ڈور سے ہی عقد کا قتل کر ڈالا۔ انسانیت شرمندہ ہو کر دور جا چکی ، عقد کے نام پر زندہ جلا دیا گیا ، دھرم کا پلڑا اُلٹ دیا تو کس نگاہ سے کہوں اور دیکھوں کہ دین میں کوئی جبر نہیں ۔ ایسا دھرم عقیدہ ، کلمہ نہ ایمان صرف جبر کا سامان۔
ایک لمحہ کے لیے دیکھیں کربلا کے میدان میں آبرو رکھنے اور دینے والوں کے ساتھ آج جو کیا جارہا ہے وہ کس مذہب و عقیدہ کی تعلیم ہیں؟
کربلا میں محبت کا دھرم انھی لوگوں نے پڑھا اور عمل کرکے دکھایا پر تم نے کس دھرم کی لاج رکھ کر ان کے گھروں کو لوٹا، مال و اسباب جلا ڈالا، سرعام انسانیت کی تذلیل کی۔ تمھارے اپنوں نے جبر کا سبق دیا۔۔۔
جن پر آج ظلم کی حد پار کر چکے ہو انھوں نے تو ماں ، بہن ، بیٹی سمجھ کر مذہب کے ساتھ عقد مضبوط کیا اور عمل کرکے دکھایا کہ ہم اولادِ آدم اور اُس دھرم کے ماننے والے ہیں جو جوڑتاہے توڑتا نہیں۔ یہ رابطہ ہے دوری نہیں۔ مذہب سلامتی ہے تشدد نہیں۔
ایک لمحہ کے لیے سوچو! دھرم کی لاج اور روایت کو عزت اُس وقت بھی دینے والے مسیحی تھے جھنوں نے روایت کو برقرار رکھتے ہوئے 1947 میں بھی آزادی اور دھرم کی یگانگت کا درس دکھایا۔
آج جبر کی کس تصویر کو بیان کروں ؟ کیسے کروں؟ کیوں کروں؟ اور کیوں نہ کروں؟ یہ وہ سب سوالات جن کے پیچھے ہر وہ کردار جو اس کے عوض جنت کے ٹکٹ کٹواتے مل رہے ہیں۔ یہ ان کے صرف تصوارتی قول ہے فیصلہ میرے رب کی بارگاہ میں ہے۔ ایک حرف پڑھنے سے دس نیکیاں ہیں تو سمجھ کر  عمل کرنے سے کئی دس ملیں گی۔
اس جبر نے جنم کہاں سے لیا؟
اس کا جواب تو پھر آسان الفاظ میں ہی ہے کہ ان حروف کو پڑھنے اور پڑھانے والا صرف یہی سمجھے کہ دس نیکیاں ملنی ہیں یہ نیکیاں میرے کھاتے اور عمل دوسروں پر فرض ہے تو یہ تضاداتی کشمکش وہی صورت حال بیان کرتی ہے جو آج جبر کی سونامی کا اعلان ہے۔ یقین ہے پر شک کے ساتھ ، دین ہے دلیل بہت، درس ہے مدارس بہت ، عقیدہ ہے مضبوط بہت اسی طرح دھرم بھی ہے پر تشدد بہت۔
اس تشدد کے پس منظر میں اولیت کی صف میں وہی لوگ ہیں جو ماضی میں انگریز حکومت کے قریب جاکر نذرانہ کے طور پہ جاگیریں لیتے پائے مگر افسوس دینے والوں پر ساتھ عقل کی دو گولیاں بھی دیتے جاتے تاکہ انسانیت اور دھرم کے ساتھ تمھاری زمینوں کی عزت رکھ لیتے۔ اس بات کو بھی رہنے دیں کم از کم جو ایمان ملا اُس خدا اور نبی کے اُسوہ کی قدر رکھتے۔
خیر اور کیا کہوں اس خطہ کے باشندوں کا بیان کروں تو عقل و دھرم سے اتنے واقف ہیں کہ انڈیا والے چاند پر گئے ہیں اور یہ اعلان کر رہے یہ تو ابھی جا رہے ہیں ہم نے 1947 ء میں اُتار کر جھنڈے پر لگا دیا ہے۔ تو سمجھ جاؤ قدر نہیں دین میں جبر ہے۔

نوٹ: “تادیب”کے کسی بھی آرٹیکل، کالم یا تبصرے میں لکھاری کی ذاتی رائے ہوتی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا قطعاً ضروری نہیں۔ “تادیب” ادیبوں، مبصرین اور محققین کی تحریروں کو شائع کرنے کا فریضہ انجام دے رہا ہے۔

*******

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Discover more from Tadeeb

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading