درست اصلاحات درست سمت کی طرف قدم : پادری ساجد ایم سراج

یہ ایک تباہ و برباد ، بے فائدہ ، بیکار، بے سود ٹریکٹر کے کھوکھلے ڈھانچے کی تصویر نہیں ہے بلکہ یہ بے مقصد اور فضول ڈھانچہ ہمارے ہر ادارے کی تصویر ہے یا یوں کہہ لیں کہ ہماری کمیونٹی کی مجموعی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے ،کسی دور میں یہ ٹریکٹر ضلع خوشاب کی تحصیل قائد آباد کے مسیحی چکوک 36، 37 اور 38 ڈی بی کی زمینوں پر بڑی شان سے چلا کرتا تھا ، زمینوں کو نرم کرتا، قابل کاشت بناتا،سونا اگلنے کے لئے تیار کرتا وہاں کے مسیحی کسانوں کی خوشحالی کا ضامن تھا۔اور پھر مفاد پرست طبقے کے ہتھے چڑھ گیا اور آج اس کا یہ حال ہے اور وہاں کا کسان بھی بے حال ہے۔
دوسری طرف بڑے تسلسل سے ملک کے طول و عرض میں بڑے بڑے کروسیڈز، دعائیہ اور شفائیہ اجتماعات ، آزادی فیسٹول،پرئیر فیسٹول وغیرہ ہو رہے ہیں۔ پیسہ پانی کی طرح بہایا جا رہا ہے لیکن نہ کوئی روحانی اور نہ ہی کوئی مالی و معاشی تبدیلی نظر آ رہی ہے۔ کیا کریں اور کیا کہیں ہیں تو سب کے سب اپنے ہی۔اور ہر کوئی (ان کے مطابق) خداوند کی دی ہوئی رویا کے مطابق کام کر رہا ہے۔اس لئے ان کے پاس جواز ہے کہ ہم اپنی رویا کے مطابق کام کر رہے ہیں اور آپ اپنی رویا کے مطابق کریں۔
لیکن اگر ہم مسیح کی تقلید کرتے ہیں، مسیح کی خدمت کر رہے ہیں اور مسیح یسوع کے دیئے ہوئے ارشاد اعظم کی تکمیل میں لگے ہوئے ہیں تو ہمیں مسیح کی کثیر جہتی ، مشمولات، مجموعی اور کلیت پر مشتمل خدمت  کو نہ صرف سمجھنے بلکہ اس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ جہاں لوگوں کو بھوک لگی اس نے کھانا دیا (بلکہ شاگردوں سے کہا تم ہی انہیں کھانے کو دو)، جسمانی بیماری سے شفا دی ، روحانی بیماریوں سے بھی شفا دی، تعلیم بھی دی، بادشاہی کی بشارت بھی دی۔
آخری عدالت تو ہوگی ہی ان باتوں اور کاموں کی بنیاد پر ؛
” کیونکہ مَیں بھوکا تھا ۔تم نے مجھے کھانا کھلایا۔ مَیں پیاسا تھا تم نے مجھے پانی پلایا۔مَیں پردیسی تھا۔ تم نے مجھے اپنے میں اُتارا۔ ننگاتھا۔ تم نے مجھے کپڑا پہنایا۔ بیمار تھا۔ تم میرے پاس آئے۔” (متی 25: 35-46)
ابتدائی کلیسیا میں بھی نہ صرف ہر ایک کی ضرورت کا خیال رکھا جاتا تھا بلکہ ہر ایک کی ضرورت کو پورا بھی کیا جاتا تھا ، اور کتابِ مقدس میں یوں لکھا ہے ؛
“کیوں کہ ان میں کوئی بھی محتاج نہ تھا۔” (اعمال34:4)
دوسو سال سے مختلف ممالک سے مشنریز نے آکر ہسپتال، سکول و کالج قائم کئے تاکہ اس خطہ کے لوگوں کی نہ صرف روحانی بلکہ معاشی اور سماجی حالت بھی بدلے۔ہم نے خوشخبری کے اس اہم پہلو کو یکسر نظر انداز کر رکھا ہے۔

نوٹ:( “تادیب” کے کسی بھی آرٹیکل، کالم یا تبصرے میں لکھاری کی ذاتی رائے ہوتی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا قطعاً ضروری نہیں۔تمام حقائق کا مشاہدہ، اعداد و شمار اور معلومات لکھاری کی اپنی ذمہ داری ہے۔”تادیب” ادیبوں، مبصرین اور محققین کی تحریروں کو شائع کرنے کا فریضہ انجام دے رہا ہے۔)

*******

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Discover more from Tadeeb

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading