ابا جی کو کیا ہو گیا ہے! : سموئیل کامران

پچھترسالہ باپ نے بیٹے کو فون کرکے بتایا کہ وہ ان کی ماں کو طلاق دینا چاہتا ہے۔ اب اس کے ساتھ اور نہیں رہ سکتا۔ بیٹے نے پوچھا کہ اتنی طویل ازدواجی زندگی گزارنے کے بعد اب کیا مجبوری آ گئی ہے کہ فوراً طلاق کا فیصلہ کر لیا ہے۔ باپ نے بتایا کہ وہ بہت جھگڑا کرتی اور خود پسندی کا شکار ہے۔ بیٹے نے اپنی بڑی بہن کو فون کرکے باپ کا موقف بتایا۔ تھوڑی دیر بعد بیٹی نے باپ کو فون کیا، ” ابا جی، آپ جلد بازی نہ کریں۔ چند دِن رکیں۔ میں اور بھائی کرسمس پر آپ کے پاس آ رہے ہیں۔ کرسمس اکٹھے گزاریں گے اور اس موضوع پر گفتگو بھی کریں گے۔” باپ مان گیا۔
اب باپ نے بیوی کو مسکراتے ہوئے کہا، ” کام بن گیا۔ بچے کئی سالوں بعد کرسمس ہمارے ساتھ گزاریں گے۔ ہمارا منصوبہ کامیاب رہا۔”
ماں باپ بچوں سے وقت اور توجہ چاہتے ہیں۔ یہ نہ ملیں تو نفسیاتی ہو جاتے ہیں۔ ان لوگوں نے اپنی جوانی، طاقت اور دولت سب بچوں پر لگائی۔ اب بچوں کی باری ہے۔ یہ فرض نہیں عبادت سمجھ کر ان کی خدمت کریں۔کیوں کہ کتابِ مقدس میں یوں مرقوم ہے؛
” تو اپنے باپ اور ماں کی عزت کرنا تاکہ تیری عمر اس ملک میں جو خداوند تجھے دیتا ہے ، دراز ہو۔” (خروج، 12:20)

نوٹ:( “تادیب” کے کسی بھی آرٹیکل، کالم یا تبصرے میں لکھاری کی ذاتی رائے ہوتی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا قطعاً ضروری نہیں۔تمام حقائق کا مشاہدہ، اعداد و شمار اور معلومات لکھاری کی اپنی ذمہ داری ہے۔”تادیب” ادیبوں، مبصرین اور محققین کی تحریروں کو شائع کرنے کا فریضہ انجام دے رہا ہے۔)

*******

One thought on “ابا جی کو کیا ہو گیا ہے! : سموئیل کامران

  1. Beautiful article, nicely expressed the love of parents for their children. Endorsed by the Biblical verse. This is the only commandment among the ten commandments which carries promise of long life on this earth.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Discover more from Tadeeb

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading