دوسری ٹرین ۔۔۔ : روبنسن سیموئیل گل

Views: 134 ٹرین کسی بپھرے اژدھے کی مانند تیزی سے اس کی جانب بڑھ رہی تھی۔ افسوس کہ وہ بے شمار تماشائیوں کے دیکھتے ہی دیکھتے اگلے لمحے موت کے منہ میں جانے والا تھا۔دونوں ٹرینوں کے شور میں کسی شخص کی آواز اس تک کہاں پہنچ سکتی تھی۔ ٹرین کا بلند آواز ہارن کانوں…

مزید پڑھیے

پرانی یادیں، پرانی کتابیں۔۔۔: روبنسن سیموئیل گل

Views: 106 آج دوسری مرتبہ میں اپنے ہی گھر کو تلاش کرنے کی غرض سے اس گلی میں مڑ چکا تھا۔ وہ گھر جہاں ہم چند برس نہیں بلکہ چار دہائیاں پیشتر رہتے تھے۔ ٹرانسفارمر چوک والا وہ گھر جہاں میں نے زندگی میں پہلی کہانی لکھی، سائیکل چلانا سیکھی اور یہیں وہ ایک گلی…

مزید پڑھیے

میں اور میرے تجربات : روبنسن سیموئیل گل

Views: 173 نسلِ انسانی کی تاریخ میں ہم وہ لوگ ہیں جنھوں نے دنیا میں بہت سے عجیب و غریب واقعات رونما ہوتے دیکھے ہیں۔ سب سے زیادہ ایجادات اور سائنس و ٹیکنالوجی میں ترقی کے بھی ہم ہی چشم دید گواہ ہیں۔ ہم نے نہ صرف صدی کو بدلتے دیکھا بلکہ ہزار سال بھی…

مزید پڑھیے

رپیٹ ٹیلی کاسٹ : روبنسن سیموئیل گل

Views: 246 یوں محسوس ہوتا ہے کہ ساری دنیا اور پوری نسلِ انسانی رپیٹ ٹیلی کاسٹ پر چل رہی ہے۔ سب کچھ، سب کے ساتھ، بار بار ویسا ہی ہوتا ہے۔بچوں کی تربیت میں والدین سے غلطیاں ہو جاتی ہیں۔ جوانی سب کی دیوانی اور مستانی ہوتی ہے۔ جوانی کی خواہشیں ایک جیسی، آزمائشیں ایک…

مزید پڑھیے

یو آئی پی سے وی آئی پی تک کا سفر: روبنسن سیموئیل گل

Views: 1,246 کیا آپ جانتے ہیں کہ عام طور پر ایک افسر کو اُس کی افسری کا احساس اُس کے عہدے، اختیارات اور کرسی کے بعد کون دلاتا ہے؟ ۔۔۔ کوئی اور نہیں سب سے پہلے اُس کا چپڑاسی!۔۔ چپڑاسی اپنے افسر کا بیگ اٹھائے گا۔ اُس کی خوشامد کرے گا۔ اپنی چکنی چپڑی باتوں…

مزید پڑھیے

زندگی کی اُلجھی ڈوریں : روبنسن سیموئیل گل

Views: 930 زندگی کے ایسے مراحل جب زندگی کی ڈوریں بالکل ہی الجھی ہوئی محسوس ہوں۔ جب زندگی بے رنگ و بے مقصد سی دکھائی دے۔ جب انسان کو کچھ سجھائی نہ دے۔ تب آخر کون سی شے اس کے لیے محرک ثابت ہوسکتی ہے؟ کون سا عمل اسے اٹھا کھڑا کر سکتا ہے؟ کون…

مزید پڑھیے

نصف صدی کا قصہ ۔۔۔! : روبنسن سیموئیل گل

Views: 1,219 صبح کے چار بج چکے تھے جب میں اپنے کمرے میں لوٹا۔ کچھ ہی دیر میں صبح کاذب کی سپیدی ہر سو پھیلنے لگی اور پرندوں کی چہچہاہٹ بھی سنائی دینے لگی۔ رات بھر کی بارش کے بعد بادل برس کر خالی ہوچکے تھے مگر ان کی موجودگی کے باعث صبح کی یہ…

مزید پڑھیے

نئے جوتے ۔۔۔ : روبنسن سیموئیل گل

Views: 2,136 اب تو بقر عید میں مہینے سے بھی کم رہ گیا تھا۔ اس آبادی میں بھی ملک کے دیگر علاقوں کی طرح ہر دوسرا گھر مہنگائی کے ہاتھوں تنگ تھا۔ نئے کپڑے خریدے، نئے جوتے خریدے،پڑوسیوں رشتے داروں اور دوست احباب کے ساتھ رکھ رکھاو نبھائے یا پھر قربانی کرکے اللہ تعالی کی…

مزید پڑھیے

دوراہا ۔۔۔! : روبنسن سیموئیل گل

Views: 1,088 وہ مسافر اُس گھنے جنگل میں اندر ہی اندر بڑھتا چلا جارہا تھا۔مگر اُسے اِس بات کا بالکل بھی ڈر نہ تھا کہ وہ بھٹک جائے گا۔ وہ تو دُنیا داری سے پہلو تہی کرنا چاہتا تھا۔ وہ اُس ایک پگڈنڈی پر چلتا چلا جارہا تھا۔ اُس کی چال ڈھال سے معلوم ہوتا…

مزید پڑھیے