دنیا اس وقت ایک غیر یقینی دور سے گزر رہی ہے جہاں طاقت کا توازن بگڑتا ہوا محسوس ہوتا ہے اور جنگ کے سائے گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی، علاقائی تنازعات اور بڑی طاقتوں کے مفادات نے امن کو ایک خواب بنا دیا ہے۔ ایسے میں پاکستان جیسے ملک کے لیے یہ ایک اہم موقع بھی ہے اور ایک بڑا امتحان بھی کہ وہ عالمی امن کے قیام میں اپنا کردار ادا کرے۔
گزشتہ کئی دہائیوں میں پاکستان سفارتی میدان میں کسی حد تک تنہائی کا شکار رہا، تاہم حالیہ علاقائی کشیدگی کے تناظر میں جس طرح پاکستان نے عالمی سطح پر اپنی حیثیت منوانے کی کوشش کی ہے، وہ قابلِ توجہ ہے۔بالخصوص مشرقِ وسطیٰ کی پیچیدہ صورتحال میں پاکستان نے ایک پل کا کردار ادا کرتے ہوئے فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کی سفارتی کاوشیں کیں، جس کے نتیجے میں وہ ایک بار پھر خطے اور دنیا میں امن کے داعی کے طور پر ابھرتا دکھائی دیتا ہے۔ اسی عالمی تناظر میں حالیہ دنوں امریکہ کے ایک اعلیٰ سطحی وفد کی پاکستان آمد، جس کی قیادت امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں، ایک اہم سفارتی پیش رفت کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
امریکہ کے اس وفد کے ممکنہ مقاصد کئی جہتوں پر محیط ہیں۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، خصوصاً مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی صورتحال، عالمی طاقتوں کو متحرک کر رہی ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان جیسے اہم ملک کو ایک ذمہ دار شراکت دار کے طور پر استعمال کیا جائے تاکہ سفارتی دباؤ اور مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت اور اس کے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات اسے ایک مؤثر ثالث کے طور پر سامنے لاتے ہیں۔
پاکستان کے اپنے مقاصد بھی واضح ہیں۔ وہ عالمی سطح پر اپنی ساکھ کو بہتر بنانا چاہتا ہے اور خود کو ایک امن پسند اور ذمہ دار ریاست کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے۔ یہ ایک خوش آئند بات ہے، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان محض بیانات تک محدود نہ رہے بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے اپنے کردار کو ثابت کرے۔
یہ حقیقت بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ پاکستان اکیلا دنیا میں امن قائم نہیں کر سکتا، لیکن وہ ایک مؤثر سہولت کار ضرور بن سکتا ہے۔ ماضی میں دوحہ معاہدہ جیسے اہم معاہدوں میں پاکستان کے کردار نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ مشکل حالات میں بھی مثبت سفارتی کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، خصوصاً ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی، عالمی امن کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ ایران اپنے علاقائی اثر و رسوخ اور دفاعی حکمتِ عملی کے باعث کسی بھی جنگ بندی میں اہم کردار رکھتا ہے، جبکہ اسرائیل اپنی سلامتی کو اولین ترجیح دیتے ہوئے مستقل جنگ بندی کو سخت شرائط سے مشروط کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس خطے میں پائیدار امن کے لیے نہایت محتاط اور متوازن سفارت کاری کی ضرورت ہے۔ پاکستان اگر غیر جانبداری، حکمت اور تسلسل کے ساتھ اپنا کردار ادا کرے تو اعتماد سازی کی فضا پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، تاہم مستقل امن کے لیے عالمی طاقتوں کی سنجیدہ اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔
اقتصادی پہلو بھی اس تمام صورتحال میں نہایت اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان کو اس وقت سنگین معاشی چیلنجز کا سامنا ہے۔ اگر پاکستان عالمی امن کے قیام میں مثبت کردار ادا کرتا ہے تو اس کے نتیجے میں عالمی اعتماد میں اضافہ ہو سکتا ہے، جو اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری اور ترقی کے نئے مواقع پیدا کر سکتا ہے۔ لیکن اس کے لیے داخلی سطح پر استحکام، شفافیت اور مضبوط پالیسی سازی ناگزیر ہے۔
بین الاقوامی تناظر میں دیکھا جائے تو امریکہ کے اس وفد کی مصروفیات اور مذاکرات بظاہر فوری نتائج نہ بھی دیں، لیکن یہ طویل المدتی تعلقات اور پالیسیوں کی بنیاد ضرور رکھ سکتے ہیں۔ اصل کامیابی اس میں ہوگی کہ آیا یہ روابط ایک پائیدار شراکت داری میں بدلتے ہیں یا نہیں۔
دنیا کا امن کسی ایک ملک یا ایک فیصلے کا مرہونِ منت نہیں بلکہ یہ مشترکہ کوششوں، سنجیدہ سفارت کاری اور باہمی اعتماد کا نتیجہ ہوتا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ ایک اہم موقع ہے کہ وہ عالمی برادری میں اپنی حیثیت کو مضبوط کرے اور امن کے داعی کے طور پر اپنا کردار مؤثر انداز میں ادا کرے۔ تاہم اس سفر میں کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب ہم داخلی استحکام، مستقل مزاجی اور حقیقت پسندانہ حکمتِ عملی کو اپنائیں۔ اگر پاکستان اس نازک موقع کو دانشمندی سے استعمال کرے تو وہ نہ صرف عالمی امن میں اپنا حصہ ڈال سکتا ہے بلکہ اپنے قومی مفادات اور معاشی استحکام کی راہ بھی ہموار کر سکتا ہے۔
*******



