رازِ قیامت المسیح : پادری عرفان نشاطؔ چوہدری

آج تک بھی اس دنیا میں لاتعداد افراد مسیحی ایمان میں خداوند یسوعؔ مسیح کی صلیبی موت اور تیسرے دن مُردوں میں سے جی اُٹھنے یعنی قیامت المسیح کے پس ِ پردہ راز سے بے بہرہ ہونے کی وجہ سے نجات کی اُس بڑی بخشش سے نابلد ہیں اور اس لاعلمی کی سنگین غلطی کی وجہ سے اُس غضب ِ الٰہی کے نیچے ہیں جو اس دنیاپر نازل ہونے کو ہے۔اِس عقدہ کو حل کرنے کے لئے کھلے ذہن اور وسعت ِ قلبی کی ضرورت ہے یہ دونوں اِس بھید کو کھولنے کی کنجی ہیں جب تک ہم تعصب کی عینک لگائے رکھیں گے مسیحی ایمان کے اس عقیدہ یعنی قیامت المسیح کے پس ِ پردہ بھید کو پا نہیں سکیں گے اور یوں غافل ِ نجات ہی اس دنیا سے رخصت ہو جائیں گے۔ پیشتر اِس کے ملک ِ عدم کا یہ سفر شروع ہو ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنا محاسبہ کرتے ہوئے دل و دماغ کو وسعت کے آئینہ کے رو برو کریں اور کامل نجات کے حصول کے لئے مسیحی ایمان کے فلسفہئ قیامت المسیح کے راز کو پا کر اپنے گناہوں سے نجات پائیں تاکہ ہلاک نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی زندگی کے وارث ٹھہریں۔

یہ انسان کی فطرت ہے کہ وہ عقل کے گھوڑے کو دوڑاتا ہوا بعض اوقات خدا سے سوال کرنے کی حد تک جا پہنچتا ہے۔ یاد رکھیں! انسان کی تخلیق سے لے کر اُس وقت تک جب اُس کی ملاقات ابلیس سے ہو نہیں جاتی اُس کے اندر یہ جرأت نہ تھی کہ وہ خدا سے کوئی سوال کرتا۔اُس کی فطرت میں یہ تبدیلی اس ملاقات کے بعد آئی تب سے آج تک اور آسمان کی بادشاہی تک بے شمار انسان اس لاعلمی کے باعث ہلاک ہوتے رہیں گے۔ یہ سوال اکثر ذہن میں گردش کرتا ہے کہ آخر خدا نے کیوں اپنے جلیل و القدر نبی کو، رسول کو، پیغمبرکو اِس قدر اذیت ناک موت کا شکار ہونے دیا؟ خدا ایسا نہیں کر سکتا۔ اور کس طرح سے کوئی شخص قیامت سے پہلے مُردوں میں سے جی اُٹھ سکتا ہے۔ اِس طرح کے بہت سے سوالات ذہنوں کو
پریشان کیے ہوئے ہیں۔ اِس بھید کو سمجھنا کوئی جوئے شیر لانے کے مترادف نہیں ہے۔ ایک سادہ سا اصول ہے کہ ہم ذاتِ خدا سے مکمل واقفیت رکھیں جب ہم ایک طرف قہار و غفار کہتے تو اُس کے قہار و غفار ہونے کے معنی کو بھی سمجھنا ہے۔اگر ہم ان دو الفاظ کی گہرائی جان جائیں تو رازِ قیامت المسیح کی اُلجھی ہوئی گُتھی خود بخود سلجھ جاتی ہے اور انسان پلک جھپکتے ہی فنا سے نکل کر بقا میں داخل ہو جاتا ہے۔بائبل مقدس میں خدا کی ذات کا ایک خوب صورت پہلو یہ ملتا ہے (وہ قہر کرنے میں دھیما اور شفقت میں غنی ہے) بے شک وہ قہر کرنے میں دھیما ہے مگر اُس کی ذات میں یہ عنصر شامل ہے کہ وہ قہر نازل کرتا ہے اور بائبل مقدس ان شواہد سے بھری پڑی ہے کہ ماضی میں کب کب اور کیسے کیسے خدا کا قہر نازل ہوتا رہا۔ اِسی طرح اس کی مغفرت کی جو اس کی شفقت کے باعث ہے ایک طویل تاریخ موجود ہے

جب انسان کا خود ساختہ کوئی طریقہ یا کوئی عبادت یہ کام نہ کر سکی تو پھر خدا نے آدم سے اپنی محبت میں اپنے ازلی ارادہ کو ظاہر کیا اور اس کرہئ ارض پر ایک عجیب واقعہ ہوا آج سے تقریباً سوا دو ہزار سال پہلے کلمہ خود مجسم ہوا اور بحیثیت لڑکا تولد ہو کر اِس دنیا میں خدا کے اپنے ازلی ارادہ کے موافق قربان ہو کر، دفن ہو کر تیسرے دن مُردوں میں سے جی اُٹھا اور نجات کے دروازے کو کھولتا ہوا آسمان پر خدا باپ کے دہنے ہاتھ تخت نشیں ہوا۔جہاں سے پھر زندوں اور مُردوں کی عدالت کرنے کو آنے والا ہے۔ ایمان دار کو ابد الآباد خدا کے تخت کی قُربت میسر ہو گی، ہر ایمان دار مکاشفہ کی کتاب کے مطابق انعامات سے نوازا جائے گا اور پھر ہزار سالہ بادشاہی کا آغاز ہو گا۔ آسمان پر ایک بڑی ضیافت ہوگی جو اِس بادشاہت کی ابتدا ہو گی اور ہم اس میں شریک ہو ں گے……!!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Discover more from Tadeeb

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading