ہیڈلائنز

صلیب کے سائے میں آخری لمحہ : جاوید ڈینی ایل

Views: 195 ایک المناک حادثہ، انسانی زندگی کی حقیقت اور ایمان کا پیغام—   زندگی کبھی کبھی ایسے لمحے میں انسان کو خاموش کر دیتی ہے جب الفاظ اپنے تمام مفاہیم کھو بیٹھتے ہیں۔ ایک لمحہ پہلے تک عبادت کی فضا میں دعاؤں کی سرگوشیاں، روحانی عقیدت اور خداوند کی حضوری کا احساس ہوتا ہے، اور…

مزید پڑھیے

غزل — کرم اُس کا جو ہر گھڑی چاہیے— شاعر: جاویدؔ ڈینی ایل

Views: 104 کرم اُس کا جو ہر گھڑی چاہیے رِدائے دُعا بھی بڑی چاہیے جو سوچوں کو جیون نیا بخش دے خیالوں کی اِک پھُل جھڑی چاہیے بگڑتی ہوئی نسلِ نو کے لیے حلیمی میں لِپٹی چھڑی چاہیے حقیقت یہی ہے کہ اِس دَور میں خُدا کی سِپر ہر گھڑی چاہیے مرے حکمراں کو خُوشی…

مزید پڑھیے

جھوٹا الزام اور قانون۔۔۔! : جاوید ڈینی ایل

Views: 247 قانون کا بنیادی مقصد معاشرے میں انصاف قائم کرنا، انسانی جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا اور ہر شہری کو ظلم و ناانصافی سے بچانا ہے۔ کسی بھی مہذب معاشرے میں الزام کی بنیاد پر کسی شخص کو مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا؛ جرم کا تعین شواہد، منصفانہ سماعت اور عدالتی…

مزید پڑھیے

  دوہرا معیار کیوں؟ : جاوید ڈینی ایل

Views: 423 کسی گھر کا دروازہ جب کسی ضرورت مند کے لیے کھلتا ہے تو صرف ایک مکان کی چار دیواری میسر نہیں آتی، بلکہ ایک خاندان کو سکون، تحفظ اور زندگی کو نئے سرے سے ترتیب دینے کا موقع ملتا ہے۔ لیکن جب یہی دروازہ کسی انسان کے مذہب کی بنیاد پر بند کر…

مزید پڑھیے

عجب تماشا سا چل رہا ہے : جاوید ڈینی ایل

Views: 289 شہر کی سڑکیں روشن ہیں، بازاروں میں چہل پہل ہے، دکانوں کے شیشے جگمگا رہے ہیں اور اشتہارات ایک آسودہ زندگی کی تصویریں پیش کر رہے ہیں، مگر انہی روشنیوں کے درمیان ایسے گھر بھی ہیں جہاں اندھیرا صرف رات کے اترنے سے نہیں، حالات کے بگڑنے سے پھیلتا ہے۔ یہ ان لوگوں…

مزید پڑھیے

بچوں کا ماتم آخر کب تک؟: جاوید ڈینی ایل

Views: 396 کبھی معصوم بچوں کے بستوں پر خون کے دھبے ہمیں آرمی پبلک اسکول پشاور کی یاد دلاتے ہیں اور کبھی نومولود بچوں کی بے بسی پمز ہسپتال کی نرسری میں لگی آگ کے ساتھ ایک نئے قومی المیے کی صورت سامنے آتی ہے۔ دونوں سانحات کے اسباب مختلف سہی، مگر دونوں کے پسِ…

مزید پڑھیے

نہیں ملتی ہماری سوچ اور نکتہ نہیں ملتا : جاوید ڈینی ایل

Views: 232 غزل نہیں ملتی ہماری سوچ اور نکتہ نہیں ملتا کئی برسوں سے مل بیٹھے ، مگر لہجہ نہیں ملتا خلوصِ دل کی خوشبو تھی کبھی رشتوں کے گلشن میں مگر اِس دَور میں ایسا کوئی جذبہ نہیں ملتا ہزاروں لوگ ملتے ہیں سفر میں عمر بھر لیکن کسی سے بھی طبیعت کا کوئی…

مزید پڑھیے

کتاب سے رشتہ : جاوید ڈینی ایل

Views: 446 ہم ایک ایسے عہد میں زندہ ہیں جہاں دنیا ہماری انگلیوں کی پور پر سمٹ آئی ہے۔ ایک چھوٹی سی سکرین پر دنیا بھر کی خبریں، تصاویر، خیالات اور معلومات لمحوں میں ہمارے سامنے آ جاتی ہیں۔ گلوبل ورلڈ نے فاصلے مٹا دیے ہیں، سوشل میڈیا نے ابلاغ کو غیر معمولی رفتار دی…

مزید پڑھیے

قرضِ وطن – آزادی، وفا اور برابری تک : جاوید ڈینی ایل

Views: 557 قومیں صرف آزادی حاصل کرکے آزاد نہیں ہوتیں؛ آزادی کی حفاظت، اس کی قدر اور اس کے تقاضوں کو پورا کرنا ہی حقیقی آزادی ہے۔ پاکستان بھی محض زمین کا ایک ٹکڑا نہیں بلکہ ایک تاریخی جدوجہد، بے شمار قربانیوں اور کروڑوں انسانوں کی امیدوں کا حاصل ہے۔ ہر یومِ آزادی ہمیں جشن…

مزید پڑھیے

شگفتہ گفتگو تیری : جاوید ڈینی ایل

Views: 573 تمہاری شگفتہ گفتگو میرے وجود پر ایسی ساعتوں کی طرح اُترتی ہے جن میں وقت بھی ادب سے خاموش ہو جاتا ہے۔ تمہارا ہر لفظ میری رُوح کے ویران دریچوں میں زندگی کی ایک نئی کرن رکھ دیتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے برسوں کے سفر کا تھکا ہوا مسافر کسی سرسبز…

مزید پڑھیے