کسی نے دُھوپ کو مٹھی میں بھر کے چھوڑ دیا : جمشید پیٹر
Views: 65 کسی نے دُھوپ کو مٹھی میں بھر کے چھوڑ دیا تمام شہر کو سائے میں دھر کے چھوڑ دیا مَیں ایک برگ تھا، موسم کے ہاتھ بیچ دیا شجر نے مجھ کو بھی آخر بکھر کے چھوڑ دیا وہ ایک شخص جو خوشبو کی طرح رہتا تھا مِرے وجود کو رنگوں سے بھر…

