دوسری ٹرین ۔۔۔ : روبنسن سیموئیل گل

Views: 199 ٹرین کسی بپھرے اژدھے کی مانند تیزی سے اس کی جانب بڑھ رہی تھی۔ افسوس کہ وہ بے شمار تماشائیوں کے دیکھتے ہی دیکھتے اگلے لمحے موت کے منہ میں جانے والا تھا۔دونوں ٹرینوں کے شور میں کسی شخص کی آواز اس تک کہاں پہنچ سکتی تھی۔ ٹرین کا بلند آواز ہارن کانوں…

مزید پڑھیے

پرانی یادیں، پرانی کتابیں۔۔۔: روبنسن سیموئیل گل

Views: 167 آج دوسری مرتبہ میں اپنے ہی گھر کو تلاش کرنے کی غرض سے اس گلی میں مڑ چکا تھا۔ وہ گھر جہاں ہم چند برس نہیں بلکہ چار دہائیاں پیشتر رہتے تھے۔ ٹرانسفارمر چوک والا وہ گھر جہاں میں نے زندگی میں پہلی کہانی لکھی، سائیکل چلانا سیکھی اور یہیں وہ ایک گلی…

مزید پڑھیے

میں اور میرے تجربات : روبنسن سیموئیل گل

Views: 214 نسلِ انسانی کی تاریخ میں ہم وہ لوگ ہیں جنھوں نے دنیا میں بہت سے عجیب و غریب واقعات رونما ہوتے دیکھے ہیں۔ سب سے زیادہ ایجادات اور سائنس و ٹیکنالوجی میں ترقی کے بھی ہم ہی چشم دید گواہ ہیں۔ ہم نے نہ صرف صدی کو بدلتے دیکھا بلکہ ہزار سال بھی…

مزید پڑھیے

رپیٹ ٹیلی کاسٹ : روبنسن سیموئیل گل

Views: 285 یوں محسوس ہوتا ہے کہ ساری دنیا اور پوری نسلِ انسانی رپیٹ ٹیلی کاسٹ پر چل رہی ہے۔ سب کچھ، سب کے ساتھ، بار بار ویسا ہی ہوتا ہے۔بچوں کی تربیت میں والدین سے غلطیاں ہو جاتی ہیں۔ جوانی سب کی دیوانی اور مستانی ہوتی ہے۔ جوانی کی خواہشیں ایک جیسی، آزمائشیں ایک…

مزید پڑھیے

نصف صدی کا قصہ ۔۔۔! : روبنسن سیموئیل گل

Views: 1,238 صبح کے چار بج چکے تھے جب میں اپنے کمرے میں لوٹا۔ کچھ ہی دیر میں صبح کاذب کی سپیدی ہر سو پھیلنے لگی اور پرندوں کی چہچہاہٹ بھی سنائی دینے لگی۔ رات بھر کی بارش کے بعد بادل برس کر خالی ہوچکے تھے مگر ان کی موجودگی کے باعث صبح کی یہ…

مزید پڑھیے