پاکستان کا اَمن کی بحالی میں کردار اور جے شنکر : اعجاز راہی

اقوامِ متحدہ جیسے عالمی فورم پر کی جانے والی تقاریر محض رسمی بیانات نہیں ہوتیں بلکہ یہ بین الاقوامی سفارتکاری کا اہم ذریعہ سمجھی جاتی ہیں۔ یہاں استعمال ہونے والا ہر لفظ نہایت سوچ سمجھ کر چنا جاتا ہے کیونکہ یہ الفاظ مختلف ممالک کے درمیان تعلقات، اعتماد اور باہمی احترام کو براہِ راست متاثر کرتے ہیں۔ کسی بھی غیر محتاط یا جارحانہ لفظ سے نہ صرف فوری سفارتی کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے بلکہ طویل المدتی تعلقات بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے ممالک اپنے مؤقف کو مؤثر مگر مہذب انداز میں پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ وہ اپنی بات بھی پہنچا سکیں اور سفارتی آداب کی پاسداری بھی برقرار رہے۔ مجھے اس بات کا ذاتی طور پر عملی تجربہ ہے کیونکہ اکثر میں اور میرے تین ساتھیوں سرفراز کلیمنٹ، جاوید نذیر اور لیونارڈ منیزز کو ہمارے ایگزیکٹو سیکریٹری اور چیئر پرسن کی اقوامِتحدہ میں پیش کی جانے والی تقاریر ٹائپ کرنا پڑتی تھی۔ اکثر ایسا ہوتا کہ ہمیں ایک ہی تقریر کو بیسیوں مرتبہ دوبارہ لکھنا پڑتا تھا یا اس کی بار بار تصیح کرنا پڑتی تاکہ ہر لفظ اور جملہ سفارتی معیار پر پورا اترے، یہ عمل اس بات کی عکاسی کرتا تھا کہ اقوامِ متحدہ کے تقاضوں کے مطابق زبان کو نہایت محتاط، متوازن اور باوقار رکھنا کس قدر ضروری ہوتا ہے۔

برصغیر کی سیاست میں الفاظ ہمیشہ محض الفاظ نہیں ہوتے، بلکہ یہ تاریخ، تہذیب، سماجی رویوں اور سفارتی نزاکتوں کا بوجھ بھی اپنے ساتھ اٹھائے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب کسی اعلیٰ عہدے پر فائز سفارتکار یا وزیر خارجہ کوئی لفظ استعمال کرتا ہے تو اس کے اثرات محض ایک جملے تک محدود نہیں رہتے بلکہ وہ پورے خطے کی سوچ، تعلقات اور فضا کو متاثر کرتے ہیں۔ حال ہی میں بھارتی وزیر خارجہ کے ایک بیان کے تناظر میں یہی بحث دوبارہ شدت اختیار کر گئی ہے۔ جے شنکر ایک پڑھے لکھے انسان ہیں اور پچھلے سات آٹھ سالوں سے بھارت کے وزیر خارجہ کے طور پر کام کر رہے ہیں، جہاں انہوں نے خود بھی متعدد اہم بین الاقوامی مذاکرات اور ثالثی کی کوششوں میں حصہ لیا ہے۔

اگر ان کے اس بیان کو اس زاویے سے دیکھا جائے جس میں “دلال” جیسے لفظ کی بازگشت سنائی دیتی ہے، تو معاملہ محض ایک سفارتی جملے تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اندر چھپی سوچ اور رویہ بھی زیرِ بحث آ جاتا ہے۔ برصغیر کے سماجی و ثقافتی تناظر میں “دلال” ایک ایسا لفظ ہے جو محض “واسطہ کار” کے سادہ مفہوم تک محدود نہیں رہا، بلکہ وقت کے ساتھ اس میں شدید منفی اور اخلاقی طور پر قابلِ اعتراض معنی بھی شامل ہو چکے ہیں۔ یہ لفظ بعض مواقع پر ایسے عناصر کے لیے بھی بولا جاتا ہے جو خواتین کے استحصال جیسے سنگین اور قابلِ مذمت جرائم سے وابستہ ہوں۔ چنانچہ جب کسی ریاست یا اس کے کردار کو اس مفہوم کے قریب لا کر پیش کیا جائے تو یہ تنقید کی حدود سے نکل کر کھلی توہین اور تحقیر کا رنگ اختیار کر لیتا ہے، جو سفارتی آداب اور مہذب مکالمے کے تقاضوں کے منافی ہے۔

مزید دلچسپ پہلو یہ ہے کہ بھارت خود ماضی میں ایسے کردار ادا کر چکا ہے جسے “ثالثی” یا “درمیانی کردار” کہا جا سکتا ہے۔ روس اور یوکرین کے درمیان کشیدگی کے دوران بھارت نے سفارتی سطح پر رابطوں اور بات چیت کے ذریعے کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کی۔ اگر ایک ملک خود ایسے کردار کو کبھی مثبت سفارتی اقدام کے طور پر پیش کرتا ہے، تو پھر کسی دوسرے ملک کے اسی طرزِ عمل کو تنقید کا نشانہ بنانا ایک تضاد کو ظاہر کرتا ہے، دراصل اس تضاد کی وجہ میں آگے چل کر اس کالم میں بیان کرتا ہوں۔
مندرجہ بالا بیان کے تناظر میں بھارتی وزیراعظم کے وہ بیانات بھی یاد آتے ہیں جن میں انہوں نے اسرائیل کو “فادر لینڈ” اور بھارت کو “مدر لینڈ” قرار دیا تھا۔ ایسے بیانات بظاہر جذباتی یا علامتی ہو سکتے ہیں، لیکن بین الاقوامی تعلقات میں ان کے گہرے مضمرات ہوتے ہیں۔ جب ایک رہنما کسی دوسرے ملک کے ساتھ اس قدر جذباتی وابستگی کا اظہار کرتا ہے، تو یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ کیا اس کی خارجہ پالیسی واقعی غیر جانبدار اور متوازن ہے یا نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت کے اندر بھی اس بیان کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا، خصوصاً اپوزیشن جماعتوں نے اسے سختی سے ہدف بنایا۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ اس طرزِ بیان سے یہ تاثر ابھرتا ہے جیسے اسرائیل کو بھارتیوں کا “باپ” اور بھارت کو “ماں” قرار دیا جا رہا ہو، جو نہ صرف سیاسی طور پر غیر موزوں ہے بلکہ قومی وقار اور خودمختاری کے تصور سے بھی ہم آہنگ نہیں۔ اس طرح کے بیانات نہ صرف داخلی سیاست میں بحث کو جنم دیتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک خاص اور بعض اوقات متنازع تاثر پیدا کرتے ہیں۔

اگر ان تمام عوامل کو یکجا کر کے دیکھا جائے تو یہ تاثر ابھرتا ہے کہ بھارتی قیادت کے بیانات میں ایک خاص قسم کی سختی اور بعض اوقات غیرضروری اشتعال پایا جاتا ہے۔ اس پس منظر میں اگر وزیر خارجہ کے بیان کو بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی سمجھا جائے تو بعید نہیں کہ یہ اندازِ گفتگو قیادت کے عمومی بیانیے کی عکاسی کرتا ہو۔ میرا قوی یقین ہے کہ پاکستان کے لیے اس نوعیت کی سخت زبان کا استعمال ماضی کی کشیدگی، خصوصاً حالیہ جنگی تناظر میں پاکستان کی جانب سے دیے گئے مؤثر اور دوٹوک جواب کا ایک ردِعمل بھی ہو سکتا ہے، جسے پاکستان کی عسکری قیادت، بالخصوص آرمی چیف سید عاصم منیر کی مدبرانہ حکمتِ عملی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

مزید برآں، یہ تو ایک بیان ہے، ماضی میں نہ صرف بھارتی حکومت بلکہ بھارتی میڈیا کے بعض حلقوں کی جانب سے بھی پاکستان کے حوالے سے نازیبا زبان اور غیر مصدقہ معلومات کے پھیلاؤ کی مثالیں سامنے آتی رہی ہیں۔ اس کے برعکس پاکستانی میڈیا عمومی طور پر ایک محتاط، ذمہ دار اور پیشہ ورانہ طرزِ عمل اختیار کرتا آیا ہے، جو خطے میں سنجیدہ اور متوازن مکالمے کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔ تاہم، اس تمام تر پس منظر کے باوجود، یہ توقع برقرار رہتی ہے کہ ایک تجربہ کار سفارتکار جذباتی یا سیاسی دباؤ سے بالاتر ہو کر زیادہ متوازن اور ذمہ دارانہ زبان کا استعمال کرے گا۔

یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ پاکستان کی حالیہ سفارتی کوششوں کو کس نظر سے دیکھا جائے۔ ایران اور امریکہ جیسے دو اہم ممالک کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے پاکستان نے جو کردار ادا کرنے کی کوشش کی، وہ خطے میں امن کے قیام کے لیے ایک مثبت قدم ہے۔ ایسے اقدامات کو سراہا جانا چاہیے، کیونکہ جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی کئی تنازعات کا شکار ہیں، اور کسی بھی ملک کی جانب سے امن کی کوششیں قابلِ تحسین ہوتی ہیں۔ پاکستان کا نام آگ لگانے والے نہیں بلکہ آگ بجھانےوالوں میں لکھا جائے گا۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی کا یہ پہلو کہ وہ تنازعات کو کم کرنے اور مکالمے کو فروغ دینے کی کوشش کرتا ہے، دراصل ایک ذمہ دار ریاست ہونے کی علامت ہے۔ اگر کوئی ملک دو متحارب فریقوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کی کوشش کرتا ہے، تو اسے کمزوری نہیں بلکہ ایک مثبت سفارتی حکمتِ عملی کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ دنیا کی بڑی طاقتیں بھی اکثر اسی طرزِ عمل کو اختیار کرتی ہیں، اور اسے عالمی امن کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے۔

آخر میں، یہ کہنا بجا ہوگا کہ الفاظ کی طاقت کو کم نہیں سمجھنا چاہیے۔ ایک غلط یا غیر محتاط لفظ نہ صرف تعلقات کو خراب کر سکتا ہے بلکہ عوامی سطح پر نفرت اور بداعتمادی کو بھی بڑھا سکتا ہے۔ برصغیر جیسے حساس خطے میں، جہاں تاریخ، سیاست اور جذبات ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں، وہاں ذمہ دارانہ گفتگو کی ضرورت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔

تنقید ہر ریاست کا حق ہے، مگر اس کا انداز ایسا ہونا چاہیے جو مسائل کو حل کرنے میں مدد دے، نہ کہ انہیں مزید پیچیدہ بنائے۔ اگر ہم واقعی ایک پرامن اور مستحکم خطہ چاہتے ہیں تو ہمیں الفاظ کے چناؤ میں بھی اتنی ہی سنجیدگی دکھانی ہوگی جتنی ہم اپنے پالیسی فیصلوں میں دکھاتے ہیں۔ یہی سفارتکاری کا اصل حسن ہے اور یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں محاذ آرائی کے بجائے مفاہمت کی طرف لے جا سکتا ہے۔ پاکستان ہمیشہ زندہ آباد

*******

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Discover more from Tadeeb

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading