مسز ہیلن سیموئیل:عمران یونس گل

مسز ہیلن سیموئیل:عمران یونس گل
چند یوم قبل سوشل میڈیا پر ایک عجیب و منفرد بحث چھڑی تھی کہ چک نمبر 16/135-ایل ،سٹونز آباد،میاں چنوں کا اب عروج ہے یا پہلے تھا تو آج کے ٹک ٹاک سٹار و نام نہاد سماجی کارکن و لیڈر اس بات سے واقف نہ ہیں کہ سٹونزآباد پورے پاکستان بلخصوص صوبہ پنجاب میں اپنی طرز کا منفرد و مسیحی قوم کا علمبردار گاؤں تھا۔ گو کہ میں نے بھی مکمل عروج تو نہیں دیکھا مگر اس عروج کی باقیات لازمی دیکھی ہیں جن میں مندرجہ ذیل ادارے قابل ذکر ہیں؛کرسچن فارمرز ٹریننگ سینٹر۔ایگریکلچر ڈویلپمنٹ سینٹر۔سٹونزآباد ہیلتھ سینٹر۔بیت حسدا۔سٹونزآباد بوائز ہوسٹل۔سٹونزآباد گرلز ہوسٹل۔حبیب بنک لمیٹڈ سٹونزآباد اور غریب بچوں کی تعلیم کا مرکز لالا زار سکول جیسے بہترین ادارے اپنے عروج پر کام کرتے دیکھے ہیں مگر اب ان میں سے ذیادہ تر کی تو باقیات بھی دیکھنے کو نہیں ملتی کیونکہ ہمارے چند بشپ صاحبان و دیسی مینجمنٹ جس میں مکمل جانب داری و پارٹی بازی عروج پر رہی نے باقیات بھی کوڑیوں کے بھاؤ بیچ دیں اور کچھ پر تو بااثر افراد نے قبضہ کر لیا۔

مگر جب ہم سٹونزآباد گرلز ہوسٹل کی بات کریں تو ایک ہی نام فوراً ذہن میں آتا ہے اور وہ ہیں!۔
“محترمہ مسز ہیلن سیموئیل زوجہ ڈاکٹر سیموئیل نسیم”
میں نے جب سے ہوش سنبھالا اُنہیں با رعب و با اعتماد خاتون لیڈر کے روپ میں دیکھا۔ اور جس کسی نے بھی سٹونزآباد میں انکا ذکر کیا انکی تعریف ہی کی اور انکی خدمات کو سراہا ہے۔مسز ہیلن کی پیدائش مورخہ 28 اپریل 1942 بروز جمعرات لاہور کے معزز و مذہبی گھرانے میں سر کیلب جمیل کے خاندان میں ہوئی۔ برٹش راج و مذہبی رجھان کی بدولت بڑی چاہتوں اور محبتوں سے آپ کا نام ہیلن کیب رکھا گیا۔ آپ سے بڑے چار بھائی اور ایک بہن تھیں جبکہ ایک بھائی آپ سے چھوٹا تھا۔ ابھی آپ کی عمر محض دس برس کی ہی تھی کہ ماں کا سایہ سر سے اٹھ گیا مگر بڑی بہن روت ڈین نے ماں بن کر پالا اور بڑے بھائیوں نے بھی خوب لاڈ پیار سے چھوٹی بہن کی پرورش کی۔مگر بڑی بہن روت ڈین جب رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے کے بعد برطانیہ منتقل ہوئیں تو حالات کے پیش نظر انہیں لوسی ہیریسن سکول کے ہاسٹل میں داخل کروا دیا گیا۔ یہیں سے مسز ہیلن کلیب نے میٹرک کا امتحان عالی کارکردگی دیکھاتے ہوئے پاس کیا ۔ بورڈنگ سکول/ ہاسٹل کی زندگی نے انہیں نظم و ضبط، جرات اور خود داری کی صفات سے آراستہ کیا۔ جو انہوں نے اپنی عملی زندگی میں ہمشہ ساتھ دوسروں کو بھی سیکھایا۔29 دسمبر 1961ء بروز جمعہ آپ خاندانی و مذہبی جوش و جزبہ سے چک نمبر15/113-ایل میاں چنوں کے بڑے زمیندار و نمبردار گربخش کے بڑے صاحبزادے چوہدری سیموئیل نسیم کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئی بعد ازاں آپ کا نام ہلین کیلب سے ہیلن سیموئیل ہوگیا۔ والدین کی مرضی و شوہر کی فرمانبرداری میں آپ شہری پررونق زندگی اور تعلیمی سرگرمیاں چھوڑ کر خوشی سے چک نمبر 113 منتقل ہوگئیں۔ شادی کے چند ماہ بعد اپنے خاوند چوہدری سیموئیل نسیم کی سٹونزآباد ہیلتھ سنٹر میں ملازمت کے باعث قریبی گاؤں سٹونزآباد منتقل ہوئیں۔
یہیں خداوند نے انہیں پانچ بیٹوں اور ایک بیٹی سے نوازا ایک بیٹا بچپن میں ہی انتقال کر گیا تھا۔(اپنا سٹونزآباد) میں انھوں نے اپنی زندگی کے کم و بیش 37 برس خدمت میں گزارے۔ اس دوران میں انھیں مشنری لوگوں کے ساتھ سماجی خدمات سرانجام دینے کا نادر موقع ملا ۔ انھوں نے سٹونزآباد و گردونواح میں بے شمار سماجی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور ہمیشہ بے لوث خدمت میں پیش پیش رہیں۔

وہ تقریباً 17 برس بطور سٹونزآباد گرلز ہوسٹل کی وارڈان جانفشانی و خوش اسلوبی کے ساتھ اپنی خدمات سر انجام دیتی رہی۔ جب ہم سٹونزآباد رفاقت خواتین کی بات کریں تو مثبت و غیر سیاسی طور پر رفاقت خواتین کا کلیسیاء میں جب اہم کردار تھا تب وہ رفاقت خواتین کی سرگرم بانی رکن تھیں۔مسز ہیلن سیموئیل ایک اچھی معلمہ رہبر و سماجی کارکن ہونے کے سے بھی پہلے ایک بہت اچھی ماں بھی تھیں چونکہ وہ بچپن میں ہی اپنی ماں کے سایہ سے محروم ہو گئی تھی اس لئے ممتا و ماں کی اہمیت سے بخوبی واقف تھیں۔ اس لئے انہوں نے مندجہ ذیل بااثر و تعلیم یافتہ’ قد آور شخصیات کو جنم دے کر پروان چڑھایا اور انکی پرورش میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا۔
۔1-چوہدری سہیل سموئیل
پرنسپل سمبھال سکول چک نمبر 113۔
۔2- چوہدری روحیل سموئیل
سابقہ بینک آفیسر حبیب بنک لمیٹیڈ۔
ملازمت و رہائش پذیر امریکہ۔
۔3- سر شکیل سموئیل
فنانشل ایکسپرٹ رہائش و ملازمت امریکہ ۔
۔4- راحیلہ یوسف ذوجہ چوہدری یوسف رحمت
سابقہ سکول ٹیچر سمبھال سکول چک نمبر 113
رہائش پذیر سٹونزآباد۔
۔5- ڈاکٹر انیل سموئیل
سربراہ شعبہ اردو، ایسوسی ایٹ پروفیسر
فورمین کرسچن کالج (چارٹرڈ یونیورسٹی) لاہور۔
اس کے علاوہ انہوں نے ہوسٹل میں مقیم لاتعداد غریب و یتیم بچیوں و بچوں کو ماں بن کر پالا اور انہیں کھبی بھی ماں کی کمی محسوس نہ ہونے دی جس کا اعتراف ان کی متعدد طالبہ اکثر و بیشتر کرتی ہیں۔چونکہ انکے خاوند چوہدری سیموئیل نسیم سٹونزآباد ہیلتھ سنٹر کے انچارج تھے اس لئے گاوں میں رہنے والی ماؤں کو حفظان صحت کے اصولوں سے روشناس کرانے میں ہر ممکن کوشش کرتی رہیں ۔ اپنے خاوند کی سیاسی سماجی اور خاندانی زندگی میں بھی شریک سفر بن کر ان کے شانہ بشانہ چلتی رہیں اور وفا شعاری کا پیکر ثابت ہوئی۔ان کی زندگی میں 28 دسمبر 1997 بروز اتوار ایک المناک دن ثابت ہوا اس دن انکی زندگی کے ساتھی ڈاکٹر سموئیل نسیم خالق حقیقی سے جا ملے ۔ اس سانحہ کو بڑی استقامت سے جھیلا اور اپنے خاندان کی رہنمائی جاری رکھی۔ خاوند کی وفات و سٹونزآباد میں مشنری اداروں کے زوال کے بعد چک نمبر 113 میں واپس چلی گئیں اپنے خاوند کی یاد میں قائم ادارے سیموئیل میموریل فیڈریشن فاؤنڈیشن کی آبیاری وتعلیمی فروغ کے لیے اپنے آپ کو وقف کر دیا۔
چک نمبر 113 اورگردونواح کے بچوں اور بچوں کوتعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے میں مصروف ہوگئیں ۔ اسی خدمات کو سرانجام دیتے ہوئے اچانک اپریل 2013 کے پہلے ہفتے میں طبیعت ناساز ہوئی تو دوران علاج و تشخیص سے پتہ چلا کہ وہ کینسر کے موذی مرض میں مبتلا ہیں گھر والوں اور عزیزو اقارب پر تو یہ خبر قیامت بن کر ٹوٹی مگر آپ نے بڑی بہادری کے ساتھ اس بیماری کا مقابلہ کرتے کرتے آخرکار و با وعده خدا سات برس قبل آج ہی کے دن یعنی مورخہ 9 جون 2013ء بروز اتوار خداوند میں ابدی نیند سو گئیں۔چونکہ ان کا عزم تھا کہ سٹونزآباد و گردونواح کے چکوک بلخصوص انکے سسرال کے گاؤں چک نمبر 113 میں تعلیم عام کی جائے اور مفت غریب بچوں کو بنیادی سہولیات مہیاہ کی جائیں۔ انکی اس درینہ خواہش کو پورا کرتے ہوئے مورخہ 9 جون 2014 انکی پہلی برسی پر انکی کے صاحبزادگان نے ہیلن میموریل گارڈن کا افتتاح اس وقت کے ؐںآ پیر اسلم بودلہ صاحب سے کروایا یہ ایک پروقار تقریب تھی جس میں لاہور ملتان خانیوال سے سیاسی و سماجی شخصیات نے شرکت کی خصوصی طور پر مجھے بھی مدعو کیا گیا تھا تب بھی کافی مقررین نے مسز ہیلن سیموئیل کی حالت زندگی پر تبادلہ خیال کیا جن میں انکے چھوٹے صاحبزادے جناب ڈاکٹر انیل سیموئیل صاحب بھی شامل تھے اس وقت مجھے کافی معلومات ان سے ملی اس کے لئے انکا شکر گزار ہوں۔

سٹونزآباد و گردونواح کے چکوک میں کلیسیاء ترقی و تعلیمی میدان میں محترمہ مسز ہیلن سیموئیل کی گراں قدر خدمات کو میں قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے
سٹونز آباد کا سلام پیش کرتا ہوں۔ میری دعا ہے کہ خداوند ان جیسا مشنری جذبہ موجودہ دور میں بھی کلیسیاء علمبردار خواتین کو عطا فرمائیں آمین۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Discover more from Tadeeb

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading