سردیاں ، بزرگ اور ہم : سموئیل کامران

” سردیاں بزرگ کے لئے مہلک ہوتی ہیں۔”
جیسے ہی شدید سردی کے دو مہینے آتے ہیں
فیس بُک پر ایک ہی طرح کی خبریں قطار باندھ لیتی ہیں۔
۔”والد صاحب کا قضائے الٰہی سے انتقال ہو گیا “۔
۔”والدہ محترمہ ہم سے بچھڑ گئیں”۔
۔”ساس ، سسر اس دنیا سے رخصت ہو گئے”
یہ محض اتفاق نہیں ۔آپ کو خاموشی سے خبردار کیا جا رہا ہے
کہ ان بزرگوں میں سے اکثریت سردی کی نذر ہو جاتی ہے ۔

والدین کبھی اولاد سے کچھ نہیں مانگتے ۔ضرورت انتہا پر بھی ہو تو بھی نہیں مانگتے ۔یہ ان کی فطرت میں ہی نہیں ہوتا ۔سوچئے …۔ساری زندگی مانگ تانگ کر بچوں کی ضرورتیں پورا کرنے والا والد بڑھاپے میں اپنی اولاد سے ایک کمبل مانگنے کی ہمت نہیں کر پاتا ۔

اس لیے سوال مت کیجیے ۔کیونکہ آپ پوچھیں گے تو جواب ہمیشہ یہی ملے گا “نہیں ، مجھے کچھ نہیں چاہیے” ۔
اور المیہ یہ ہے کہ ہم اس ” نہیں” کو قبول کر لیتے ہیں ۔خود احساس کیجیے ۔خود ذمہ داری اٹھائیے ۔
ان کے لیےگرم رضائیاں لائیے ،گرم کپڑے ، کوٹ ،موٹے موزے ، مناسب جوتے ،
اور گرم ، طاقت بخش خوراک مہیا کیجیے ۔

یہ بات ذہن میں بٹھا لیجیے ،ان کی رضائی آپ کی رضائی سے ڈبل ہونی چاہیے ،ان کے کپڑے آپ کے کپڑوں سے زیادہ گرم ہونے چاہئیں ۔کیونکہ بڑھاپے میں سردی زیادہ لگتی ہے ۔اور قوتِ مدافعت باقی قوتوں کی طرح کمزور ہو چکی ہوتی ہے ۔سردیوں میں بزرگوں کی اموات میں جو غیر معمولی اضافہ ہوتا ہے۔وہ اکثر اسی نالائق اولاد اور لاپرواہ کی وجہ سے ہوتا ہےجو ان باتوں کا شعور ہی نہیں رکھتی ۔

یاد رکھیے …جس طرح آپ کے بچپن میں والدین خود دیکھتے تھے کہ آپ کے گرم کپڑے پورے ہیں یا نہیں، اب وہی رول آپ نے پلے کرنا ہے ۔پوچھنا نہیں ہے ۔خود دیکھنا ہے ۔خود انتظام کرنا ہے ۔

سیانے کہتے ہیں بزرگ ان گھروں میں نظر آتے ہیں جن کو بزرگ سنبھالنے آتے ہیں۔ اسی لئے کئی ملکوں اور معاشروں میں بزرگ لوگ زیادہ ہوتے ہیں جبکہ تیسری دنیا میں بزرگوں کی تعداد قدرے کم ہوتی ہے۔ یہ بزرگ لائبریریاں ہیں، داستانیں اور تہذیب کے معمار ہیں۔ ان کو سنبھال لیجئے، پلیز!۔

*******

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Discover more from Tadeeb

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading