نسلِ انسانی کی تاریخ میں ہم وہ لوگ ہیں جنھوں نے دنیا میں بہت سے عجیب و غریب واقعات رونما ہوتے دیکھے ہیں۔ سب سے زیادہ ایجادات اور سائنس و ٹیکنالوجی میں ترقی کے بھی ہم ہی چشم دید گواہ ہیں۔ ہم نے نہ صرف صدی کو بدلتے دیکھا بلکہ ہزار سال بھی ہمارے ہی دورِ حیات میں پورے ہوئے اور اِس طرح ہم 1999سے 2000میں داخل ہوئے۔ آج ہم وہ نسل ہیں جنہوں نے کورونا جیسی عالم گیر وبا کا بھی تجربہ کیا ہے۔ ایسے بہت سے تجربات جو منفرد ہیں اور جو ہمارے دور، ہماری نسل اور ہماری ذات سے ہی تعلق رکھتے ہیں۔ بے شک پوری دنیا ایک ہی طرح کی وبا سے دوچار ہوئی تو بھی اِس حوالے سے ہر ایک شخص کا تجربہ مختلف و منفردتھا۔ ضرور ہے کہ ہم کسی نہ کسی طرح اپنے منفرد تجربات کو محفوظ کرتے رہیں۔
مَیں بہت دفعہ سوچتا ہوں کہ پاسٹر کی ڈائری کے عنوان سے مضامین لکھنے کا سلسلہ شروع کروں مگربے شمار مصروفیات یا پھرسستی و لاپروائی آڑے آجاتی ہیں اور یہی خطرہ لاحق رہتا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کہیں یہ تجربات ضائع نہ ہوجائیں۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ زندگی کے تجربات کو عملی اسباق یا ایسے علم میں نہ ڈھالا جائے جو آئندہ زندگی میں ہمارے اور دوسروں کے کام آسکے تو ایسے تجربات اُس حمل کی مانند ہیں جو مکمل طور پر وجود میں آنے سے پیشتر ہی ضائع ہو جاتا ہے۔ اگر مَیں نے اپنی اب تک کی پاسبانی خدمت کے تجربات کوقلم بند نہ کیا تو یقینا” یہ سب بھی یونہی ضائع ہو جائیں گے۔
جب آپ زندگی میں کوئی تجربہ کرتے ہیں تو حقیقت میں وہ پہلی اور آخری بار ہی ہو رہا ہوتا ہے۔ اگر اُسے دوہرایا جائے تو وہ تجربہ نہیں کہلائے گا بلکہ ہم یوں کہیں گے کہ مجھے اِس کام کا پہلے سے تجربہ تھااور اَب مَیں اُس عمل کو دوبارہ سے سرانجام دے رہا ہوں۔ کچھ لوگ تجربوں سے بھی نہیں سیکھتے، افسوس کہ اُن کی زندگی بے پھل ہی رہتی ہے۔ وہ اچھے شاگرد نہیں ہوتے اور اچھے استاد بھی ثابت نہیں ہوپاتے۔ جب ہم اپنے یا دوسروں کے تجربات سے سیکھتے ہیں تو مزید ترقی کی راہیں کھلتی ہیں۔ ہم اُن غلطیوں کو بھی دہرانے سے بچ جاتے ہیں جو ہم سے یا دوسروں سے سرزد ہوئی ہوتی ہیں۔ سب سے بڑھ کریہ کہ ہم اُس نقصان سے بچ جاتے ہیں جو ہم اکثر نا تجربہ کاری کی وجہ سے اٹھاتے ہیں۔ اگر انسان اپنے تجربوں سے سیکھ نہ رہا ہوتا، دوسروں کو سکھا نہ رہا ہوتا اور دوسروں کے تجربوں سے خود سیکھ نہ رہا ہوتا تو نسلِ انسانی زمانۂ قدیم کی طرح آج بھی غاروں میں ہی زندگی بسر کر رہی ہوتی۔
دنیا میں انسان کے پاس سیکھنے کے دو ہی طریقے ہیں۔ اول خود تجربہ کر کے سیکھ لے یا دوسروں کے تجربات سے سیکھے۔ جب دوسرے اپنے تجربات سے سکھاتے ہیں تو اُسے علم کہا جاتا ہے، جب کہ خود تجربہ کرنے کو عمل کہا جاتا ہے۔ ضرور ہے کہ ہمارا علم، عمل میں ڈھلے اور اِسی طرح ہمارا عمل، علم میں ڈھلتا جائے۔ اگر ایسا نہیں ہوگا تو پھر ہمارا علم و عمل دونوں اسقاطِ حمل کی مانند ہوں گے۔
مَیں اپنی کلیسیا، اپنے طالب علموں اور حلقہ احباب میں اکثر لوگوں کو متحرک کرتا رہتا ہوں کہ وہ اپنے شخصی و منفرد تجربات کو ضرور قلم بندکیا کریں کیوں کہ وہ خاص تجربات صرف اور صرف اُن ہی کے ساتھ پیش آئے ہوتے ہیں۔ مثلاً اگر کسی نے پاکستان میں بطور مسیحی اچھے عہدے پر سرکاری ملازمت کی ہے تو اُسے کیا کیا چیلنجز درپیش رہے، وہ اُن پر کس طرح غالب آیا؟ دوسروں کے لیے اُس کے تجربات میں سے کون سی ایسی سیکھنے والی بات ہے جو اُن کے لیے فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہے؟
خداوند کے فضل سے مجھے میرے آسمانی باپ نے جس کلیسیا کا پاسبان ٹھہرایا ہے اُس میں اعلیٰ پائے کے کاروباری افراد، اُنیسویں گریڈ کے سرکاری افسران، کرنل، میجر، صوبے دار، ریٹائرڈ فوجی، وکیل، پروفیسر، انسپکٹر، ڈاکٹر، پرنسپل، ٹیچرز، نرسز، بنکرز،ڈائریکٹرز، میوزیشنز،این جی او ورکرز، منسٹری ورکرز، سنگرز، کار پینٹرز، باربرز،ٹیلرز،ویلڈرز، رکشہ و ٹیکسی ڈرائیورز اوراِسی طرح محنت مزدوری کر کے روزی کمانے والے بھی شامل ہیں۔ بطور پاسبان ہر ایک کی زندگی کے منفرد تجربات میرے لیے دل چسپی کا باعث ہوتے ہیں۔ مَیں اور میری اہلیہ کرن،اِس بات پر بھی غور کر رہے تھے کہ ہمارے دونوں بچے ابیشے اور جوآنہ اَب ٹین ایجرز ہو چکے ہیں۔ ہم بطور والدین بارہ سال کی عمر تک بچوں کی تربیت کے حوالے سے اپنے تجربات و مشاہدات قلم بند کر سکتے ہیں تاکہ نئے جوڑوں کو بطور والدین پہلے سے اُن باتوں سے آگاہی ہو جو بچوں کی تربیت میں اہمیت کی حامل ہوتی ہیں۔
اکثر نوجوان جوڑے شادی شدہ زندگی، آپس کے تعلقات اور بچوں کی تربیت کے حوالے سے ہم سے صلاح کاری حاصل کرتے رہتے ہیں۔ پہلا مرحلہ تو تجربات کو تحریری شکل میں ہی لانے کا ہوتا ہے بعد ازاں دوسرے اُن کو پڑھ لیں یا پھر اُنہیں کتابی شکل کے علاوہ سیمینار یا ویڈیو کی صورت میں بھی دوسروں کی رہنمائی کے لیے پیش کیا جاسکتا ہے مگر پہلی اور بنیادی شرط اُن کو تحریر کرنا ہی ہے۔ میرا ایک شعر ہےکہ
خیال آتے ہیں خیال جاتے ہیں
لکھے نہ جائیں تو فنا ہو جاتے ہیں
چنانچہ ہم میں سے ہر کوئی منفرد تجربہ رکھتاہے۔ بطور میاں بیوی، بطور والدین، بطور ہاؤس وائف (خاتونِ خانہ) بطور مسیحی ایمان دار مسلم معاشرے میں زندگی بسر کرنا،… یہ سب وہ تجربات ہیں جو دوسروں کے کام آ سکتے ہیں۔ نہ صرف زندگی کے خوش گوار تجربات بلکہ اگر تلخ اور غمگینی سے بھرے تجربات اور احساسات کو بھی ہم تحریر کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو نہ صرف اُس سے ہمارا بوجھ ہلکا ہو جاتا یعنی ہمارا کیتھارسز Catharsis ہو جاتا ہے بلکہ دوسرے اُس سے مشابہت قائم کر کے کسی حد تک اپنے دُکھوں کا مداوا بھی کر لیتے ہیں۔ مثلاً جب کبھی ہم شدید دکھ اور کرب سے دوچار ہوتے ہیں حتی کہ ہمیں اظہار کے لیے الفاظ بھی نہیں مل رہے ہوتے تو داؤد نبی کے بعض زبور اِس طرح ہمارے دل کی عکاسی کرتے ہیں کہ ہمیں گویا اپنے دکھ کے اظہار یا خدا سے دعا کرنے کے لیے الفاظ مل جاتے ہیں۔
اگر ہماری عزیز ترین ہستی اِس دنیا سے رخصت ہو جاتی ہے تو اُن احساسات و جذبات کو قلم بند کرنا کس قدر ضروری ہے، ایسا کرنے سے آپ کے غم کا بھی کسی حد تک مداوا ہو جاتا ہے اور وہ تحریر دوسروں کے لیے بھی تسلی و تقویت کا باعث بن جاتی ہے جو ہماری ہی طرح اُس تلخ تجربے یا مصیبت میں سے گزر رہے ہوتے ہیں۔
”ہمارے خداوند یسوع مسیح کے خدا اور باپ کی حمد ہوجو رحمتوں کا باپ اور ہر طرح کی تسلی کا خدا ہے۔ وہ ہماری سب مصیبتوں میں ہم کو تسلی دیتا ہے تاکہ ہم اُس تسلی کے سبب سے جو خدا ہمیں بخشتا ہے اُن کو بھی تسلی دے سکیں جو کسی طرح کی مصیبت میں ہیں۔“
(2-کرنتھیوں باب 1 آیات 3اور 4)
بے شک ہم اپنے لبوں سے یعنی تقریر کے ذریعے اپنے دائرہ کار میں بھی تسلی کا باعث بنتے ہیں لیکن جب اُن ہی لفظوں کو تحریری شکل میں محفوظ کرلیتے ہیں تو اُن کا دائرہ کار زمان و مکان کے لحاظ سے وسیع ہو جاتا ہے یعنی وہ وہاں تک پہنچ جاتے ہیں جہاں تک ہم نہیں پہنچ پاتے اور ہماری زندگی کے بعد بھی دوسرے اُس سے مستفیض ہوتے رہتے ہیں۔
آپ اپنی دعائیں اور روحانی احساسات، جذبات و تجربات بھی ریفلیکشن Reflection یا جرنلJournal(روزنامچے) کی صورت میں قلم بند کر کے دیکھیں، بعدازاں اُن تحریروں کو آپ خود بھی پڑھ کر شکر گزاری سے بھر جائیں گے۔ آپ اپنے روحانی سفر میں مختلف سنگِ میل بھی دیکھ پائیں گے۔
مَیں اپنے تجربے کی روشنی میں لکھنے کے حوالے سے چند تجاویز دینا چاہوں گا، اُمید ہے کہ آپ کے لیے مفید ثابت ہوں گی۔
اپنے تجربات کو قلم بند کرنے کے حوالے سے چند عملی تجاویز:
1۔پاکٹ سائز نوٹ کاپی و پین: ایک پاکٹ سائز نوٹ کاپی اور قلم(Pen) ہمیشہ اپنے ساتھ رکھیں، جو بھی خیال آئے اُسے مختصر نکات کی صورت میں تحریر کر لیں۔ کوئی تجربہ ہوا ہو یا کسی سے ملاقات ہوئی ہو تو اُس کے متعلق چیدہ چیدہ باتیں اس نوٹ کاپی میں محفوظ کر لیجیے۔ خاص بات یاد رکھیں کہ کوئی بھی نکتہ تحریر کرتے ہوئے تاریخ اور وقت ضرور لکھیے۔ اِس بات کی عادت بنا لیجیے کہ کوئی بھی بات یا خیال لکھتے ہوئے سب سے پہلے تاریخ اور وقت ضرور نوٹ کر لیں، آئندہ جب کبھی آپ اُس نکتے کو پڑھیں گے تو تاریخ اور وقت کا پہلے لکھا ہونا فائدہ مند ثابت ہوگا۔ یہ بات بھی مَیں نے تجربے سے سیکھی کیوں کہ چند سالوں کے بعد آپ اپنی ہی لکھی ہوئی کوئی سطر پڑھتے ہیں تو سوچ میں پڑ جاتے ہیں کہ مَیں نے یہ کس وقت، کن حالات میں اور کس تجربے کے نتیجے میں لکھی تھی؟ تاریخ و وقت محفوظ ہونا اِس سلسلے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔
اِس پاکٹ سائز نوٹ کاپی میں پہلے سے صفحات کے نمبر بھی لکھ دیں اور پھر ہر نیا نوٹ لیتے ہوئے تاریخ اور وقت کے علاوہ سیریل نمبر یعنی نمبر شمار بھی لکھ لیں اگر ممکن ہو تو اُس نوٹ کی مختصر سی ہیڈنگ یعنی شہ سُرخی بھی لکھ لیں۔ اِس ترتیب اور نظم و ضبط کے ساتھ لکھنے کی عادت اپنائیں گے تو آپ کا لکھا ہوا کوئی ایک لفظ بھی ضائع نہیں جائے گا کیوں کہ آپ پہلے سے ہی ہر لفظ اور ہر نکتے کو ترتیب کے ساتھ محفوظ کر رہے ہوں گے۔ اِس چھوٹی نوٹ کاپی کے پہلے تین چار صفحے خالی چھوڑ دیں تاکہ آپ انڈیکس یعنی نوٹس کی فہرست بنا سکیں اِس طرح بعد میں search یعنی تلاش کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ فہرست میں آپ تین کا لمز بنا سکتے ہیں، پہلا نمبر شمار، دوسرا عنوان اور تیسرا صفحہ نمبر۔
پاکٹ سائز ڈائری میں نکات نوٹ کرنے میں چند منٹ صرف ہوتے ہیں۔ آپ کسی بھی جگہ بیٹھے ہیں، انتظار کر رہے ہیں تو جو خیال آئیں وہ اُس میں لکھ لیں۔ مَیں اگر سُرخ اشارے پر بھی کچھ دیر کے لیے رکوں تو گاڑی کے ڈیش بورڈ پر ہی نوٹ بک اور جیب میں پین ہوتا ہے۔ اُن چند لمحوں میں بھی کوئی نہ کوئی خیال یا گزرے وقت کے تجربے کے چند نکات لکھ لیتا ہوں کیوں کہ ہم اکثر اوقات بہت سی باتوں کوجلد بھول جاتے ہیں جو ہمارے ساتھ وقوع پذیر ہوئی ہوتی ہیں۔
کاغذ کے پُرزوں پر لکھتے رہنے کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ بعد ازاں اُن کو محفوظ رکھنا یا پروسیس کرنا مشکل ہو جاتا ہے، وہ اِدھر اُدھر ہو جاتے ہیں۔ اگر آپ نے نوٹ کاپی والی عادت اپنا لی تو آپ بہت سے خیالات محفوظ کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ تاہم یہ نوٹ کاپی آپ کے اپنے ریکارڈ کے لیے ہی ہوگی۔
2۔ تفصیلی تحریروں کے لیے بڑی نوٹ کاپی: اپنے تجربات یا زندگی کے اہم واقعات کو تفصیلی طور پر تحریر کرنے اور محفوظ رکھنے کے لیے اب آپ ایک اچھی اور خوب صورت سی بڑے سائز والی ڈائری خریدیں اُس کے پہلے صفحے پر اپنے نام کے علاوہ تاریخ بھی لکھ لیجیے۔ اِس ڈائری کے بھی پہلے چار پانچ صفحات خالی چھوڑیں تاکہ بعد ازاں فہرست مضامین بنائی جاسکے۔ اب اِس ڈائری کے ہر صفحے پر نمبر لگا دیجئے بعد ازاں آپ کو اپنی تحریریں ڈھونڈنے میں آسانی ہوگی۔ اِس کی فہرست میں آپ چھے 6 کالم بنالیجئے، پہلا کالم نمبر شمار، دوسرا کالم تاریخ واقعہ، تیسرا کالم تاریخِ تحریر، چوتھا کالم عنوان، پانچواں کالم صنف یا کیٹگری اور چھٹا کالم صفحہ نمبر۔
نمبر شمار اِس کالم میں ترتیب وار لکھ لیں۔ ڈائری میں ہر تحریر کے ساتھ نمبر شمار لازمی لکھیں۔ تاریخِ واقعہ یعنی جس تاریخ کو وہ واقعہ یا تجربہ پیش آیا۔ تاریخِ تحریر یعنی جس تاریخ پر آپ تفصیلی طور پر تحریر کرنے لگے ہیں۔
صنف یا Category سے مُراد یہ کہ تحریر یا تجربے کا تعلق کس قسم /صنف سے ہے مثلاً دُعا، شخصی تجربہ، سفر نامہ، پاسبانی خدمت، بچوں کی تربیت، روحانی سفر، شکر گزاری، اقرار، سبق وغیرہ۔ جب آپ باقاعدگی سے فہرست مضامین میں اپنی لکھی ہوئی تفصیلی تحریروں کے متعلق معلومات محفوظ کرتے جائیں گے تو بعد ازاں آپ کو کوئی بھی تحریر تلاش کرنے میں بے حد آسانی ہوگی۔
اِن تحریروں کا مقصد اشاعت نہیں ہوگا کیوں کہ آپ آزادی کے ساتھ اپنے ذاتی احساسات اور خیالات کو قلم بند کر رہے ہوں گے تاہم آپ نہیں جانتے کہ آپ کی کتنی تحریریں آگے چل کر قابلِ اشاعت بھی ہو جائیں۔ بعض احباب اپنے خیالات و احساسات کو محفوظ کرنے کے لیے سوشل میڈیا فیس بک، ٹوئیٹر وغیرہ کا استعمال کرتے ہیں۔ بعض صورتوں میں وہ ناگزیر ہے، ضرور استعمال کیجیے مگر اُس میں خطرہ یہ ہوتا ہے کہ آپ اپنے لیے نہیں بلکہ دوسروں کے لیے لکھ رہے ہوتے ہیں۔ بعض احباب تو انتہائی ذاتی نوعیت کی چیزیں اور اپنے باطنی احساسات و خیالات تحریر کر کے بھی پبلک کر دیتے ہیں مثلاً اظہارِ محبت یا پھر کسی شخص پر اظہارِ برہمی یا پھر اپنے روحانی تجربات و احساسات۔ اِس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ ایک بار اَپ لوڈ کر دیا تو وہ کمان سے نکلے تیر کی طرح واپس نہیں لوٹتا۔ پہلے ڈائری میں لکھنے کی عادت اپنائیں بعد ازاں اُسے دوبارہ پڑھیں، غور سے پڑھیں۔ اگر سوشل میڈیا پر اَپ لوڈ کرنا چاہتے ہیں تو پھر پہلے کسی ایک دو اشخاص کو بھی پڑھا لیں ورنہ بعد ازاں اپنی ہی تحریر یا نظریے کی تردید کرنا پڑے گی۔
آپ کی بعض تحریریں قابلِ اشاعت بھی ہو سکتی ہیں مگر اُس کے لیے پہلے خوب مطالعہ بھی کیجیے اور مختلف رسائل پڑھیے، اُن کے انداز اور مقصد و نوعیت کو سمجھیے۔ پھر ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ آپ کی ایک ایک سطر قابلِ اشاعت ہو جاتی ہے تاہم تب بھی آپ کی ڈائری میں بعض ایسی تحریریں ہوں گی جو آپ نے اپنے لیے یا اپنے بچوں کے لیے ہی تحریر کی ہوں گی۔ اِس مضمون کے اختتام پر ایک آخری تجویر یہ دوں گا کہ اپنے قلم میں کڑواہٹ نہ آنے دیں۔ کوشش کریں کہ سخت یا کڑوی بات بھی خوب صورت اور نرم انداز میں کی جائے۔ میرا تجربہ یہ ہے کہ کڑوی بات جس شخص کو خاص طور پر سکھانے کے لیے کی جا رہی ہوتی ہے وہ اُسے سن کریا پڑھ کر مزید کڑوا ہو جاتا ہے اور اِس طرح یہ کڑواہٹ معاشرے میں پھیلتی چلی جاتی ہے۔
اپنی انتہائی ذاتی اور کونفی ڈینشل Confidential تحریر لکھتے ہوئے یہ بات بھی ذہن میں رکھیں کہ آپ کی ڈائری کل کو کسی کے ہاتھ لگ سکتی ہے۔ ایسے تجربات و واقعات تحریر کرنا مقصود ہوں تو کرداروں اور جگہوں کے نام تبدیل کر کے لکھیں یا پھر آپ کوڈڈcoded انداز میں لکھ سکتے ہیں۔
گلی مکئی کے نام سے اپنے تجربات تحریر کرنے والی ملالہ یوسف کس مقام تک پہنچ گئی۔ این فرینک کی ڈائری جو اُس نے جرمنوں کی جانب سے یہودیوں پر ظلم و ستم کے تناظر میں لکھی آج ایک تواریخی حیثیت رکھتی ہے۔ اِس لیے آپ بھی اپنے تجربات سچائی کے ساتھ قلم بند کرتے رہیں، آج نہیں تو کل کسی نہ کسی کے کام آ ہی جائیں گے۔ علم کو عمل اور عمل کو علم میں ڈھالتے رہیں کیوں کہ اِسی سے ترقی کی راہیں کھلتی جاتی ہیں۔
مَیں بطور مسیحی ایمان دار اپنی زندگی کے اکثر تجربات کو قلم بند کرنے کے بعد جب دوبارہ پڑھتا ہوں تو وہ میرے آسمانی باپ کی محبت اور اُس کے سچے وعدوں کی ایک یادگار کی طرح ہوتے ہیں۔ مَیں زندگی کے فیصلوں میں پاک روح کی عجیب رہنمائی کا مشاہدہ کر پاتاہوں۔ مَیں اپنی زندگی کے ہر تجربے میں خداوند یسوع مسیح کی محبت اور اُس کی وفاداری کو دیکھ پاتا ہوں۔ اُس کا وعدہ ہے کہ دیکھو مَیں دنیا کے آخر تک ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں۔ میری
زندگی کا ہر تجربہ مجھے اُس کے اِس وعدے کی یاد دہانی کرواتا ہے کہ واقعی وہ میرے ساتھ ہے۔
*******


