بہار کی دستک سنائی دے رہی ہے۔ ہواؤں میں خنکی کم ہو رہی ہے اور شجر و حجر پر زندگی کی نئی لہر دوڑ رہی ہے۔ پنجاب کی مٹی سے سرسوں کی خوشبو اٹھ رہی ہے اور لوگ ”بسنت“ کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ لیکن اس جشن کے شور میں، نیلی فضاؤں اور آسمانوں کے اصل مکینوں یعنی پرندوں کی ایک ایسی خاموش فریاد ہے، جو شاید زمین والوں کے ضمیر تک نہیں پہنچ پا رہی۔
آج پرندوں کا ایک نمائندہ، بسنت کے موقع پر انسانوں کے نام ایک فریاد لایا ہے، جسے سُنا جانا چاہیے۔
اے انسان! یہ آسمان تمہاری تفریح گاہ بننے سے پہلے ہمارا گھر تھا۔ تم نے اپنی ہوس اور نام نہاد ترقی کا سفر زمین سے شروع کیا اور اب آسمان کی وسعتوں تک جا پہنچے ہو۔ تم اپنی فیکٹریوں کے دھوئیں اور زہریلی گیسوں سے پہلے ہی اس فضا کو آلودہ اور ہمارے لیے بوجھل بنا چکے ہو، جہاں اب سانس لینا بھی زندگی اور موت کا کھیل بن چکا ہے۔ تم نے زمین پر ہمارے صدیوں پرانے مسکن، وہ گھنے اور سایہ دار درخت اپنی تعمیرات کی بھینٹ چڑھا دیے جن کی شاخوں پر ہماری نسلیں پروان چڑھتی تھیں۔ جب ہم نے زمین پر اپنا ٹھکانہ نہ پا کر آسمانوں میں پناہ لی، تو اب تمہاری نظریں ہماری اس آخری ’خوشی‘ اور آزادی پر بھی آن پڑی ہیں۔
تم یہ کیوں بھول جاتے ہو کہ یہ آسمان، یہ درخت، یہ دریا، جھرنے، وادیاں اور جنگلات صرف انسان ہی کے لیے نہیں ہیں؟ اس دھرتی کے ہر رنگ اور کائنات کے ہر گوشے پر تمام مخلوقات کا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا تم جتاتے ہو۔ قدرت کا دسترخوان سب کے لیے بچھا ہے، مگر تم نے اپنی اجارہ داری قائم کر کے فطرت کا توازن بگاڑ دیا ہے۔ یہ کائنات ایک لڑی کی مانند ہے ؛ اگر اس میں سے پرندوں کی پروازیں اور جانوروں کی پناہ گاہیں چھین لی گئیں، تو تمہاری اپنی بقا بھی خطرے میں پڑ جائے گی۔
تمہاری بے حسی کی انتہا تو یہ ہے کہ تم اپنی لمحاتی خوشیوں کے لیے اپنے ہی جیسے انسانوں کا خون بہانے سے بھی نہیں کتراتے۔ جب تمہاری خونی ڈوریں تمہارے اپنے بھائیوں کی شہ رگ کاٹتی ہیں اور انسانی بستیوں میں صفِ ماتم بچھا دیتی ہیں، تو ایسی صورت میں ہم بے زبان پرندے تمہاری تفریح کے سامنے کیا اہمیت رکھتے ہوں گے؟ جس معاشرے میں انسان کا خون سستا ہو جائے، وہاں پرندوں کے کٹے ہوئے پروں کا ماتم کون کرے گا؟
ذرا ٹھہر کر اپنے گریبان میں جھانک کہ تیری انا اور ذاتی مفاد کی بھوک نے اس خوبصورت کائنات کا کیا حلیہ بنا دیا ہے؟ تو نے صرف زمین ہی نہیں، بلکہ فطرت کی ہر سانس پر اپنی ملکیت کی مہر لگانے کی کوشش کی ہے۔ تو کتنا خود غرض ہے اے انسان، کہ اپنی چند لمحوں کی سستی شہرت اور ’بو کاٹا‘ کے شور کے لیے پوری کائنات کے توازن کو داؤ پر لگا دیتا ہے۔ کیا تیری انسانیت اتنی کھوکھلی ہو چکی ہے کہ تجھے اپنے ہی ہاتھوں بکھرتی لاشیں اور کٹتے پر دکھائی نہیں دیتے؟
اے انسان! اگر تو اپنی مادی ترقی کے زعم میں فطرت کے حقوق بھول چکا ہے، تو ذرا اپنے روحانی ماضی کی طرف دیکھ۔ مقدس فرانسس آف اسیسی بھی تو تیری ہی طرح کا ایک انسان تھا، جس نے پرندوں کو ’اپنے بھائی اور بہن‘ کہہ کر پکارا اور ان سے کلام کیا۔ کیا تم اس عظیم انسان کی زندگی سے کچھ نہیں سیکھ سکتے؟ یہی نہیں، بلکہ ابھی حال ہی میں پوپ فرانسس کی ان واضح تعلیمات کو بھی تم نے پسِ پشت ڈال دیا ہے جن میں انہوں نے کائنات کو تمام مخلوقات کا ’مشترکہ گھر‘ قرار دیا اور اس کے تحفظ کی اپیل کی۔ انہوں نے تمہیں جھنجھوڑا کہ یہ زمین اور اس کے مکین یعنی تمام چرند، پرند، سبزہ جات، دریا، وادیاں اور پہاڑ سب اس کائنات کے وارث ہیں۔ مگر افسوس کہ تمہاری ’خونی بسنت‘ ان تمام پاکیزہ تعلیمات پر تمہاری ہوس کی فتح کا اعلان کر رہی ہے۔
ایک بات ذہن نشین کر لو، یہ نیلا آسمان ہماری قلمرو ہے۔ تم اپنی زہریلی ڈوروں اور پتنگوں کے ذریعے ہمارے جہان میں داخل ہو رہے ہو۔ تم زمین پر تو دیواریں کھڑی کرنے کے ماہر ہو، مگر اب ہماری وجہ سے تمہارا آسمان بھی لہو رنگ ہونے جا رہا ہے۔ یاد رکھو، یہ محض پتنگیں نہیں بلکہ تمہاری ہوس کے نمائندے ہیں جو ہماری دنیا پر قابض ہونا چاہتے ہیں۔
کبھی تصور کرو اس اداس صبح کا، جب سورج طلوع تو ہو مگر فضاؤں میں پرندوں کی چہچہاہٹ کی موسیقی نہ گونجے۔ اگر ہم نے اپنی ’خونی تفریح‘ سے ان معصوم پرندوں کا صفایا کر دیا، تو تمہاری بہاریں گونگی ہو جائیں گی۔ پرندوں کے بغیر آسمان محض ایک خالی چھت ہے ؛ ان کی اڑان ختم ہوئی تو انسان کی اپنی روح سے فطرت کا ناتا ٹوٹ جائے گا۔
بسنت کا حقیقی پیغام زندگی سے محبت اور سلامتی ہے۔ آؤ! اس بار بسنت کو امن اور سلامتی کا عنوان بنائیں۔ آسمان پر پتنگیں ضرور ہوں، مگر ان کے پیچھے موت کا سایہ نہ ہو۔ اے انسانو! آسمان کو پرندوں کے لیے مقتل نہ بناؤ۔ ہمیں بھی جینے کا اتنا ہی حق ہے جتنا تمہیں۔
فقط
تمہاری بے حسی کا نوحہ گر۔
آسمان کا ایک بے زبان مکین
(تمام پرندوں کی جانب سے)


